اسلام آباد: گزشتہ مالی سال کے دوران ہر پاکستانی شہری پر قرضے کا بوجھ 13 فیصد اضافے کے بعد 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک جا پہنچا ہے، جبکہ عوامی قرضوں میں مسلسل اضافہ حکومت کے لیے ایک بڑے چیلنج کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ یہ انکشاف وزارتِ خزانہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی سالانہ فِسکل پالیسی اسٹیٹمنٹ میں سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں فی کس قرضہ 2 لاکھ 94 ہزار 98 روپے تھا جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار 41 روپے ہو گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران ہر پاکستانی شہری پر قرضے میں تقریباً 39 ہزار روپے کا اضافہ ہوا، یہ تخمینہ ملک کی 24 کروڑ 15 لاکھ آبادی کو مدنظر رکھ کر لگایا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق جون 2024 سے جون 2025 کے عرصے میں مجموعی عوامی قرضہ 71.2 کھرب روپے سے بڑھ کر 80.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جس کی بڑی وجوہات زیادہ سودی ادائیگیاں اور زرِ مبادلہ کی شرح میں تبدیلی قرار دی گئی ہیں۔
رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران عوامی قرضوں کی صورتحال ایک سنگین چیلنج بنی رہی۔
فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لمٹیشن ایکٹ کے تحت وفاقی حکومت پابند ہے کہ ہر مالی سال کے اختتام پر پارلیمنٹ میں مالی پالیسی بیان پیش کرے۔
پاکستان کی مسلح افواج ہر خطرے کے خلاف مکمل طور پر تیار ہیں: فیلڈ مارشل
رپورٹ میں بتایا گیا کہ وفاقی مالی خسارہ جی ڈی پی کے 6.2 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ قانونی طور پر یہ حد 3.5 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔
اس طرح حکومت نے مقررہ قانونی حد سے تقریباً 3 کھرب روپے زائد خسارہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی عوامی قرضہ جی ڈی پی کے 67.6 فیصد سے بڑھ کر 70.7 فیصد ہو گیا، اسی دوران نئے محکمے قائم کیے گئے، وفاقی کابینہ میں توسیع کی گئی اور نئی گاڑیاں اور فرنیچر خریدا گیا، حالانکہ سرکاری سطح پر کفایت شعاری کے دعوے کیے جاتے رہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے لیے مجموعی وفاقی اخراجات 18.9 کھرب روپے بجٹ کیے گئے تھے، جن میں سے 17.2 کھرب روپے موجودہ اخراجات پر مشتمل تھے، جبکہ وفاقی حکومت نے جی ڈی پی کے 2.7 فیصد کے برابر اضافی اخراجات کیے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیکس وصولیاں 11.7 کھرب روپے رہیں جو مقررہ 13 کھرب روپے کے ہدف کا 90.5 فیصد تھیں، جبکہ نان ٹیکس آمدن توقعات سے بہتر رہی اور 5.1 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔
ترقیاتی اخراجات 1.7 کھرب روپے کے بجائے 1.4 کھرب روپے رہے، جبکہ دفاعی اخراجات بجٹ سے بڑھ کر 2.2 کھرب روپے تک جا پہنچے، اسی دوران سود کی ادائیگیاں 8.8 کھرب روپے رہیں۔