پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی جانب سے مالیاتی گوشوارے جمع نہ کروانا ان کے لیے بڑی سیاسی مشکل کا باعث بن گیا ہے جس کے نتیجے میں وہ اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کروانے کا قانونی حق کھو بیٹھے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے گزشتہ دنوں مالیاتی گوشوارے جمع نہ کروانے کی پاداش میں اپوزیشن کے 13 ارکان کو معطل کر دیا تھا۔ اس معطلی سے قبل ایوان میں اپوزیشن ارکان کی کل تعداد 99 تھی جو اب کم ہو کر صرف 86 رہ گئی ہے، جبکہ اسمبلی قواعد کے مطابق اجلاس کی ریکوزیشن جمع کروانے کے لیے کم از کم 93 ارکان کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔
سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی تعلیمی اہلیت سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات
الیکشن کمیشن کی جانب سے معطل کیے جانے والے ارکان میں پنجاب اسمبلی کے قائد حزبِ اختلاف معین ریاض قریشی کا نام بھی شامل ہے، جس سے اپوزیشن کی قیادت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ معین ریاض قریشی کے علاوہ دیگر معطل ہونے والے ارکان میں صلاح الدین خان، محمد داؤد خان، علی رضا خان خاکوانی اور محمد اقبال خٹک کے نام نمایاں ہیں۔ ان ارکان کی معطلی نے پارلیمانی محاذ پر اپوزیشن کی پوزیشن کو کافی کمزور کر دیا ہے۔
معطل ہونے والے دیگر ارکان کی فہرست میں عدنان ڈوگر، وسیم خان، امتیاز محمود، محمد آصف، محمد نواز، جاوید نیاز منج، شاہد رضا اور اعجاز حسین بخاری کے نام بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ موجودہ صورتحال سے قبل ہی اپوزیشن کے ارکان اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ دے چکے تھے، تاہم اب گوشوارے جمع نہ کروانے کی وجہ سے ہونے والی معطلیوں نے انہیں ایوان کی عددی سیاست میں مزید پیچھے دھکیل دیا ہے۔