سپریم کورٹ کے سابق جسٹس منصور علی شاہ نے قانونی پریکٹس شروع کرنے کا اعلان کر دیا
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ نے باضابطہ طور پر قانونی پریکٹس شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا توجہ بین الاقوامی اور مقامی ثالثی نیز اسٹریٹجک قانونی مشاورت پر ہوگی، جبکہ وہ فی الحال ایل یو ایم ایس میں تدریسی خدمات بھی جاری رکھیں گے۔
پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں تاریخ ساز پیش رفت، عالمی شراکت داری کا روشن باب
جسٹس منصور علی شاہ نے 13 نومبر 2025 کو آئینی اصولوں اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ سے استعفیٰ دیا تھا۔ ان کا نام پاکستان کے 45ویں چیف جسٹس کے عہدے کے لیے زیر غور تھا، لیکن متنازعہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کی سینئرٹی ساخت تبدیل کیے جانے کے بعد انہیں اس عہدے سے خارج کر دیا گیا۔
پاکستان بار کونسل کے رکن بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا کہ استعفیٰ کے بعد جسٹس منصور علی شاہ اپنی مرضی کا کام کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "وہ شخص جس کی خدمات ییل اور یو پین جیسی امریکی یونیورسٹیوں نے حاصل کی تھیں، سیاسی مصلحت اور بعض ساتھیوں کی لالچ کی وجہ سے ہمارے عدالتی نظام سے محروم ہو گئے۔”
وکلاء کے ایک گروپ کا خیال ہے کہ جسٹس (ر) منصور علی شاہ کو بار میں اپنے دوروں کے ذریعے عدلیہ کی آزادی کے لیے مزاحمت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے اس موقع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "قوم پر ریاست کی بالادستی تباہ کن ہے۔”