لاہور (بیوروچیف ، آصف اقبال )خیبرپختونخواہ میں روزانہ کی بنیاد پر کرپشن کے نئے اسکینڈلز سامنے آ رہے ہیں۔ پہلے ترقیاتی شعبے میں 40 ارب روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا، پھر محکمہ تعلیم میں 16 ارب روپے کا اسکینڈل سامنے آیا، اور اب محکمہ معدنیات میں بھی کرپشن کا بڑا اسکینڈل سامنے آ چکا ہے۔
عظمیٰ بخاری کے مطابق، خیبرپختونخواہ کے پانچ اضلاع میں سونے کے نکالنے کے ٹھیکے انتہائی کم قیمت پر مخصوص اور من پسند افراد کو دے دیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ خود کو "صادق و امین” کہتے ہیں، ان کی کرپشن اربوں روپے سے شروع ہوتی ہے۔ وہ لیڈر جو گراف کی مہنگی گھڑیاں چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، اس کی اہلیہ قیمتی ہیرے کی انگوٹھیاں تحفے میں وصول کرتی رہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخواہ میں حکومت کے کارندے صوبائی خزانے کو خاندانی جاگیر سمجھ کر بے دریغ لوٹ رہے ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران کے پی میں کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا، لیکن کرپشن کے نئے ریکارڈ ضرور قائم کیے جا رہے ہیں۔
اس کے برعکس پنجاب میں وزیر اعلیٰ مریم نواز نے قلیل مدت میں ترقیاتی منصوبوں کی سنچری مکمل کر لی ہے، اور اب تک ان پر کرپشن کا کوئی ایک بھی الزام نہیں لگایا جا سکا۔ پنجاب حکومت کے منصوبے بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل ہو رہے ہیں، اور مریم نواز کی قیادت میں کرپشن، سفارش اور نااہلی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔