پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں انتہائی مضبوط سیاسی، دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر کا گٹھ جوڑ موجود ہے جبکہ خیبر اور وادی تیراہ میں کوئی مؤثر انتظامیہ موجود نہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 25 نومبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ ترجمان نے بتایا کہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں قائم یہ مضبوط گٹھ جوڑ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے ذریعے خودکش حملوں میں بھی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں کے حوالے سے بارڈر منیجمنٹ پر گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے جبکہ پاک افغان بارڈر انتہائی دشوار گزار ہے۔ خیبر پختونخوا میں سرحد 1229 کلومیٹر پر مشتمل ہے جس پر 20 کراسنگ پوائنٹس موجود ہیں اور کئی مقامات پر سرحدی پوسٹوں کے درمیان فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک اس کا احاطہ آبزرویشن اور فائر سپورٹ سے نہ ہو۔ اگر ہر چند کلومیٹر بعد قلعہ سازی اور ڈرون نگرانی کی جائے تو اس کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل درکار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ کے مقابلے میں خیبر پختونخوا میں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں موجود ہیں جس سے آمد و رفت کو کنٹرول کرنا بڑا چیلنج ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ دنیا میں بارڈر منیجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک مل کر کرتے ہیں، لیکن افغانستان کی جانب سے دہشت گردوں کی پاکستان میں آمدورفت میں سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ سرحد کے ساتھ موجود کمزور انتظامی ڈھانچہ گورننس کے مسائل میں اضافہ کرتا ہے۔ ان بارڈر ایریاز میں انتہائی مضبوط سیاسی، دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر کا گٹھ جوڑ موجود ہے جسے فتنہ الخوارج سہولت فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سرحد پار سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت، اسمگلنگ یا غیر قانونی تجارت ہو تو اندرون ملک اسے روکنے کی ذمہ داری کس کی ہے۔ اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں صوبے میں گھوم رہی ہیں تو انہیں کون روکے گا؟ ایسی گاڑیاں اسی گٹھ جوڑ کا حصہ ہیں اور خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں۔