سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ملک وقاص نامی شخص نے انسانی سمگلنگ کا ایسا حیران کن طریقہ اختیار کیا کہ امیگریشن سے لے کر سفارتی اداروں تک سب حیران رہ گئے۔ ملک وقاص، جو غیر قانونی طور پر افراد کو بیرون ملک بھیجنے کے دھندے میں ملوث رہا ہے، نے حالیہ عرصے میں اپنی "سمگلنگ اسٹریٹجی” کو ایک نیا رنگ دے دیا۔
جب غیر قانونی راستے سے جانے والی کشتیوں کے حادثات معمول بن گئے اور دباؤ بڑھا، تو وقاص نے نیا منصوبہ بنایا۔ اس نے نوجوانوں کی ایک 22 رکنی ٹیم تشکیل دی اور ہر فرد سے 50 لاکھ روپے وصول کیے۔ تین ماہ تک انہیں فٹبال کی تربیت دی گئی، قوانین سکھائے گئے اور ایک جعلی فٹبال کلب رجسٹر کروایا گیا۔
ملک وقاص نے اس "فٹبال ٹیم” کے لیے وزارتِ خارجہ کا جعلی این او سی تیار کروایا، جس پر ایک فرضی نمبر بھی درج تھا۔ جاپان کی ایمبیسی میں ویزا درخواستیں جمع کروائی گئیں، اور جب ایمبیسی نے تصدیق کے لیے دیے گئے نمبر پر رابطہ کیا، تو آگے سے ایک مکمل جعلی نظام کام کر رہا تھا — کال آگے بڑھا کر ایک جعلی "سیکشن ہیڈ” تک پہنچائی جاتی، جو سب کچھ کلیئر قرار دے دیتا۔
نتیجتاً ٹیم کو جاپان کے ویزے مل گئے اور "پاکستان کی انٹرنیشنل فٹبال ٹیم” ٹوکیو ایئرپورٹ جا پہنچی۔
لیکن قسمت کا کھیل دیکھیے — جاپانی امیگریشن کو شک گزرا کہ ان "کھلاڑیوں” کا تعلق فٹبال سے کم اور کسی اور میدان سے زیادہ ہے۔ جب ایک نوجوان نے سچ اُگل دیا کہ وہ سب ملک وقاص کو 50 لاکھ روپے دے کر آئے ہیں، تو جاپانی حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے وقاص کو گرفتار کر لیا، جبکہ باقی افراد کو واپس پاکستان ڈیپورٹ کر دیا گیا۔
گرفتاری کے بعد وقاص نے دعویٰ کیا کہ 2017 میں بھی وہ ایک ٹیم لیکر آیا تھا جو آج بھی جاپان میں کھیل رہی ہے۔
یہ واقعہ ایک جانب تو پاکستان کے امیگریشن اور سفارتی نظام میں موجود سقم کو بے نقاب کرتا ہے، اور دوسری جانب ملک وقاص جیسے "شاطر دماغ” کی چالاکی کو بھی دکھاتا ہے — گو جرم بہر حال جرم ہی ہے۔
اشرف وڑائچ کی زبانی:
"آخر میں ملک وقاص کو داد دینے کو دل چاہتا ہے کہ، تیرے جئے پت جمن ماواں کدھرے کدھرے کوئی!”