امریکی صدر Donald Trump نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے اور خونریزی، بدعنوانی اور اموات کی 47 سالہ تاریخ اپنے اختتام کو پہنچنے والی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک بیان میں کہا کہ آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی جسے دوبارہ کبھی واپس نہیں لایا جا سکے گا۔
دنیا کا سب سے بڑا ہوٹل کس مسلم ملک میں موجود ہے؟
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایسا نہیں چاہتے، لیکن امکان ہے کہ ایسا ہو جائے، تاہم ان کے مطابق اب جبکہ مکمل طور پر نظام میں تبدیلی آ چکی ہے اور مختلف، زیادہ ذہین اور کم انتہا پسند سوچ رکھنے والے لوگ سامنے آئیں گے تو شاید کوئی مثبت اور غیرمعمولی تبدیلی رونما ہو۔
انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ایک ہو سکتا ہے، اور ایران کے عوام کے لیے دعا بھی کی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ قوی امکان ہے کہ آج رات 8 بجے تک ایران کی جانب سے جواب سامنے آ جائے گا۔
واضح رہے کہ ایران سے متعلق امریکی صدر کی حالیہ ڈیڈ لائن آج پاکستانی وقت کے مطابق صبح 5 بجے ختم ہو رہی ہے۔
اس سے قبل بھی Donald Trump متعدد ڈیڈ لائنز دے چکے ہیں۔
سب سے پہلی ڈیڈ لائن 21 مارچ کو دی گئی، جس میں کہا گیا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبی گزرگاہ نہ کھولی تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔
دو دن بعد انہوں نے مختلف ممالک کے ساتھ مثبت بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی توانائی کے ڈھانچے پر حملے 5 دن کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔
پھر 27 مارچ کو انہوں نے ایک بار پھر حملوں کو مزید 10 دن کے لیے مؤخر کرتے ہوئے 6 اپریل تک نئی ڈیڈ لائن دی۔
3 اپریل کو صدر ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے 48 گھنٹوں کی وارننگ دی، جبکہ 5 اپریل کو ایک اور بیان میں انہوں نے دھمکی کو دہراتے ہوئے کہا کہ منگل کا دن پاور پلانٹس اور پلوں کے لیے اہم ہوگا، بعد ازاں انہوں نے منگل کی شام 8 بجے (مشرقی وقت) کی حد مقرر کی۔