فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کامیاب سفارت کاری کی بدولت ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے فارمولا امریکا اور ایران کے حوالے کر دیا گیا، جس میں دو مرحلوں کا طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے لگے ہیں، اور پاکستان کی جانب سے پیش کردہ "معاہدہ اسلام آباد” کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والا ڈیڈ لاک ختم ہو گیا ہے، جس کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک سفارتی کوششوں کے سر جاتا ہے۔
ایران جنگ کے اثرات طویل، عالمی معیشت دباؤ میں رہے گی: آئی ایم ایف سربراہ
عالمی خبر رساں ادارے ‘روئٹرز’ کے مطابق پاکستان نے جنگ بندی کے لیے دو مرحلوں پر مشتمل ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے، جو امریکا اور ایران کے حوالے کر دی گئی ہے۔
پہلے مرحلے میں فوری طور پر جنگ بندی کی جائے گی، جس کے بدلے میں ایران اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ‘آبنائے ہرمز’ کو جہاز رانی کے لیے کھول دے گا۔
دوسرے مرحلے میں مستقل اور وسیع تر معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے 15 سے 20 دن کا وقت دیا جائے گا، اور اس کے حتمی مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے۔
روئٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس نازک موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ براہ راست رابطے کر کے مذاکرات کی راہ ہموار کی۔
امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ جنگ بندی کے معاہدے کو "اسلام آباد اکورڈ” کا نام دیا گیا ہے، اور روئٹرز کے مطابق ایران مستقل جنگ بندی کا خواہاں ہے، جس میں امریکا اور اسرائیل کے دوبارہ حملے نہ کرنے کی ضمانت شامل ہوگی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کامیاب ڈپلومیسی کے نتیجے میں اسلام آباد اس وقت سفارتکاری کا دارالحکومت بن چکا ہے۔
صدر ٹرمپ فیلڈ مارشل کی کامیابی کی تعریف کرتے ہیں، ایرانی پارلیمان پاکستان کے حق میں نعروں سے گونجتی ہے، عباس عراقچی ٹوئٹ کے ذریعے پروپیگنڈا کرنے والوں کو جواب دیتے ہیں، اور ایرانی عوام پاکستان کے حق میں مظاہروں کے ذریعے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
اس مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا علاقائی فریم ورک شامل کیا گیا ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو معاشی بحران اور جنگ کی آگ سے بچانے کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہوگا۔