آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے کیے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فوری جنگ بندی کے فریم ورک کو امریکا اور ایران کے ساتھ شیئر کیا اور تجویز دی کہ فوری طور پر عارضی جنگ بندی عمل میں لائی جائے۔
اے این ایف کی کارروائیاں، 164 کلو سے زائد منشیات برآمد، 8 ملزمان گرفتار
فریقین کو یہ تجویز بھی دی گئی کہ فوری طور پر آبنائے ہُرمُز کھولی جائے، ایران کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں اور ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں نرم کی جائیں۔
دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کے الٹی میٹم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انفرااسٹرکچر اور بجلی گھروں پر کسی بھی حملے کا جواب دیا جائے گا، اور ایرانی ردعمل اب خطے تک محدود نہیں رہے گا۔
بین الاقوامی خبر ایجنسی کی اس خبر پر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے تبصرے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ فی الحال امن عمل کے جاری رہنے کی تصدیق کرتے ہیں۔
ایران نے پاکستان کی تجاویز کے جواب میں اپنی دس تجاویز ارسال کیں، جن میں عارضی جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی پر زور دیا گیا۔
ایرانی تجاویز میں کہا گیا کہ خطے کے تنازعات کا مکمل خاتمہ کیا جائے، آبنائے ہُرمُز کے لیے محفوظ گزرگاہ کے ضابطہ کار طے کیے جائیں، ایران پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں اور امریکی و اسرائیلی حملوں سے ہوئے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کی پاور تنصیبات اور پُلوں پر حملے کیے تو ایران اسی کے مطابق جواب دے گا، اور یہ جواب اب صرف خطے تک محدود نہیں ہوگا۔