اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے آغاز کے بعد گزشتہ تین ماہ کے دوران کم از کم 100 بچے اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں میں جان سے جا چکے ہیں۔ یونیسیف کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں شامل ہیں، جبکہ ادارے کے ترجمان جیمز ایلڈر نے افسوس ظاہر کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود وہاں اوسطاً روزانہ ایک بچہ زندگی کی بازی ہار رہا ہے۔
منی لانڈرنگ کیسز: سزاؤں پر عمل درآمد تیز کرنے کیلئے ایف آئی اے کی دو خصوصی ٹیمیں قائم
رپورٹ کے مطابق بچوں کی یہ ہلاکتیں فضائی و ڈرون حملوں، ٹینکوں کی گولہ باری اور براہِ راست فائرنگ کے نتیجے میں ہو رہی ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت نے ان اعداد و شمار کو مزید تشویشناک بتاتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کے دوران بچوں کی شہادتوں کی اصل تعداد 165 تک پہنچ چکی ہے جبکہ مجموعی طور پر 442 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب غزہ میں جاری جنگی صورتحال کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات نے بھی تباہی مچا دی ہے۔ شدید بارشوں اور طوفانی ہواؤں کے باعث سینکڑوں خیمے تباہ ہو گئے، جس کے نتیجے میں ایک سالہ بچے سمیت چھ افراد جاں بحق ہوئے۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی 80 فیصد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور لاکھوں افراد شدید سردی میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔