نیند کے دوران لوگوں کو درپیش ایک عام مسئلہ اکثر جان لیوا ہائی بلڈ پریشر کی ابتدائی علامت ہو سکتا ہے، جس سے فالج اور ہارٹ فیلیئر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔
فیلڈ مارشل نے آگ کے شعلے بجھانے اور مذاکرات کرانے میں تاریخ ساز کردار ادا کیا: وزیراعظم
فلینڈرز یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق درمیانی عمر کے مردوں میں خراٹوں کی عادت بلڈ پریشر میں اضافے کے خطرے سے منسلک ہو سکتی ہے۔
اس تحقیق میں رات کے وقت نیند کی نگرانی کرنے والی مختلف ٹیکنالوجیز کے ذریعے خراٹوں اور بلڈ پریشر کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں شامل 15 فیصد افراد اضافی جسمانی وزن کے حامل تھے، اور وہ رات کے دوران دیگر افراد کے مقابلے میں اوسطاً 20 فیصد زیادہ خراٹے لیتے پائے گئے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ رات کے وقت خراٹوں کا معمول بن جانا اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان واضح تعلق موجود ہے۔
محققین نے کہا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے جب اس سطح پر خراٹوں اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان نمایاں تعلق سامنے آیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے خراٹوں پر قابو پانے کی کوشش بھی ضروری ہے۔
محققین کے مطابق اگرچہ خراٹے ہمیشہ خطرناک نہیں ہوتے، تاہم جب یہ معمول بن جائیں تو طبی مشورہ ضرور لینا چاہیے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ خراٹوں سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ تقریباً دوگنا تک بڑھ سکتا ہے۔
یہ تحقیق جرنل "نیچر ڈیجیٹل میڈیسن” میں شائع ہوئی ہے۔