Gas Leakage Web ad 1

ہائی کولیسٹرول: خاموش خطرہ جس سے بچاؤ بروقت احتیاط میں ہے

ہائی کولیسٹرول: خاموش خطرہ جس سے بچاؤ بروقت احتیاط میں ہے

0

کولیسٹرول ایک چکنائی نما مادہ ہے جو چند قسم کی خوراکوں میں موجود ہوتا ہے اور ہمارے جگر میں بھی بنتا ہے۔ ماہرین صحت ہائی کولیسٹرول کو دل کا خاموش دشمن قرار دیتے ہیں جو برسوں تک بغیر کسی واضح علامت کے جسم میں موجود رہ سکتا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

اکثر افراد کو اس وقت تک اس مرض کا اندازہ نہیں ہوتا جب تک یہ دل، دماغ یا دیگر اہم اعضا کو متاثر نہ کر دے۔ یہی خاموشی اسے خطرناک بنا دیتی ہے۔

کراچی کی سیشن عدالت نے ٹرمپ، نیتن یاہو اور مودی کیخلاف مقدمے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیدی

کولیسٹرول خون میں گردش کرتا ہے۔ اس کی ایک مقدار جسم خود جگر کے ذریعے تیار کرتا ہے جبکہ باقی حصہ خوراک سے حاصل ہوتا ہے، خاص طور پر گوشت، مچھلی، انڈوں اور دودھ سے بنی اشیا سے۔ اگرچہ کولیسٹرول جسم کے لیے ناگزیر ہے اور ہارمونز کی تیاری، خلیاتی جھلیوں کی مضبوطی اور وٹامن ڈی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن اس کی زیادتی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

طبی طور پر کولیسٹرول کی دو بنیادی اقسام ہیں۔ اچھا کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) خون سے اضافی کولیسٹرول صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔ برا کولیسٹرول (ایل ڈی ایل) خون کی شریانوں کی دیواروں سے چپک کر انہیں تنگ اور سخت بنا سکتا ہے۔ جب ایل ڈی ایل کی مقدار بڑھتی ہے تو یہ شریانوں کے اندر تہہ جما کر ایتھروسکلروسیس نامی کیفیت پیدا کر دیتا ہے، جس سے خون کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہائی کولیسٹرول کو خاموش بیماری اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ابتدا میں درد، کمزوری یا تھکن جیسی علامات پیدا نہیں کرتا۔ تاہم جب شریانیں زیادہ تنگ ہو جائیں تو سینے میں درد، سانس لینے میں دشواری، ٹانگوں میں تکلیف، دل کا دورہ یا فالج جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔

ڈاکٹرز مشورہ دیتے ہیں کہ مخصوص افراد کو باقاعدگی سے لپڈ پروفائل ٹیسٹ کروانا چاہیے۔ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور موٹاپے کے شکار افراد، تمباکو نوشی کرنے والے اور دل کے امراض کے خطرے سے دوچار لوگ خاص طور پر اس ٹیسٹ کے محتاج ہیں۔ بعض مریضوں کو ہر چھ ماہ بعد جبکہ دیگر کو سال میں کم از کم ایک بار یہ ٹیسٹ کرانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

احتیاطی تدابیر سے ہائی کولیسٹرول پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ متوازن غذا اس سلسلے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ چکنائی سے بھرپور دودھ اور سرخ گوشت کا استعمال محدود رکھا جائے جبکہ فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے جئی، دالیں اور سیب معمول کا حصہ بنائی جائیں۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بھی مفید سمجھے جاتے ہیں۔

انڈے کے استعمال میں بھی اعتدال ضروری ہے۔ انڈے کی سفیدی بہترین پروٹین فراہم کرتی ہے اور اس میں چکنائی نہیں ہوتی، لیکن زردی کا زیادہ استعمال مناسب نہیں۔ روزانہ کم از کم 30 منٹ تیز چہل قدمی اچھے کولیسٹرول کی سطح بڑھانے میں مددگار ہے جبکہ ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل ورزش کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے کے لیے مؤثر مانی جاتی ہے۔

چونکہ ہائی کولیسٹرول کی واضح علامات نہیں ہوتیں، اس لیے خون کا باقاعدہ معائنہ ہی اس کی بروقت تشخیص کا معتبر ذریعہ ہے۔ بروقت آگاہی اور طرز زندگی میں معمولی تبدیلیاں دل کے دورے جیسے بڑے خطرات سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.