بالوں کو گھنا اور پرکشش بنانے کے لیے استعمال ہونے والی ہیئر ایکسٹینشنز میں صحت کے لیے نقصان دہ اور کینسر سے منسلک کیمیکلز موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ماہرین نے صارفین کو ہنگامی انتباہ جاری کرتے ہوئے محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ ایکسٹینشنز دنیا بھر میں فیشن اور گلیمر انڈسٹری کا حصہ بن چکی ہیں اور مشہور شخصیات جیسے آسٹریلوی ماڈل ایلے میکفارسن، ایوانکا ٹرمپ اور ٹیلر سوئفٹ بھی انہیں استعمال کر چکی ہیں، جس کی وجہ سے عام افراد میں رجحان بڑھا ہے۔
رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے رویت کمیٹی کا اجلاس 18 فروری کو طلب
امریکی ریاست میساچوسیٹس میں قائم سائلنٹ اسپرنگ انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں نے تحقیق میں 43 مقبول مصنوعات کا تجزیہ کیا، جس میں فلیم ریٹارڈنٹس، فیتھالیٹس، کیڑے مار ادویات، اسٹائرین، ٹیٹراکلوروایتھین اور آرگینو ٹنز جیسے مضر صحت مادے پائے گئے۔ سابقہ مطالعات کے مطابق یہ کیمیکلز کینسر، ہارمونز میں بگاڑ، بچوں کی نشوونما کے مسائل اور مدافعتی نظام پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
تحقیقی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر الیسیا فرینکلن کے مطابق کمپنیاں کیمیکلز کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کرتیں، جس سے صارفین طویل عرصے تک ممکنہ خطرات سے لاعلم رہتے ہیں۔ یہ فائبرز براہِ راست سر اور گردن کے قریب لگائے جاتے ہیں اور اسٹائلنگ کے دوران کیمیکلز فضا میں شامل ہو کر سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔
کلپ اِن، ٹیپ اِن، ویوز اور مائیکرو لنکس جیسے مختلف ایکسٹینشنز برطانیہ اور امریکا میں مقبول ہیں۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ صارفین کیمیکل سے پاک یا تصدیق شدہ محفوظ مصنوعات کو ترجیح دیں۔