ہرجانہ کیس: سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو عمران کیخلاف کارروائی سے روک دیا، وزیراعظم سے جواب طلب
ہرجانہ کیس: سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو عمران کیخلاف کارروائی سے روک دیا، وزیراعظم سے جواب طلب
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ہرجانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کو عمران خان کے خلاف کارروائی سے روکتے ہوئے وزیر اعظم سے جواب طلب کر لیا۔
پاکستان اورامریکا میں روزویلٹ ہوٹل منصوبے پر اہم پیش رفت، مفاہمتی یاداشت پر دستخط
جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے پی ٹی آئی کے سابق چیئرمین کے خلاف لاہور کی ٹرائل کورٹ کو شہباز شریف کے 10 ارب روپے کے ہتک عزت کے مقدمے میں حق دفاع کے خاتمے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
دوران سماعت عمران خان کے وکیل علی ظفر نے بتایا کہ ان کا موکل ٹانگ میں گولی لگنے کے باعث شدید زخمی تھا اور عدالت میں پیش نہیں ہو سکا، جس کی بنیاد پر ٹرائل کورٹ نے اس کا حق دفاع ختم کر دیا۔ جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ جب ٹرائل کورٹ نے خود تسلیم کیا ہے کہ عمران خان زخمی تھے، دو تاریخوں پر ان کے زخمی ہونے کی بنیاد پر انہیں حاضری سے استثنیٰ بھی دیا گیا تھا، تو پھر ان کا حق دفاع کیسے ختم کیا جا سکتا تھا؟
فاضل وکیل نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی پر حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ٹرائل کورٹ میں شہادتیں قلمبند ہو رہی ہیں اور مقدمہ آخری مراحل میں ہے، مدعی شہباز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے مئی 2025 میں اپنا بیان بھی قلمبند کروا چکے ہیں۔ عدالت نے فاضل وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ 2017 میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ شہباز شریف نے انہیں ‘پانامہ پیپرز لیکس’ کیس میں خاموشی اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اس کے بدلے انہیں 10 ارب روپے رشوت کی پیشکش کی تھی، تاہم شہباز شریف نے ان الزامات کو بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے لاہور کی سیشن کورٹ میں ان کے خلاف 10 ارب روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔