Gas Leakage Web ad 1

سپریم کورٹ نے ملازمین کی برطرفی کے دوران تنخواہ نہ دینا آئینی جرم قرار دے دیا

سپریم کورٹ نے ملازمین کی برطرفی کے دوران تنخواہ نہ دینا آئینی جرم قرار دے دیا

0

سپریم کورٹ نے برطرف ملازم کی بحالی اور واجبات کی ادائیگی سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ غلط برطرفی کی صورت میں ملازم پچھلے تمام واجبات کا قانونی حقدار ہے۔ عدالت نے ملازمین کو برطرفی کے دوران تنخواہ نہ دینے کو آئینی جرم قرار دیا۔

Gas Leakage Web ad 2

سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا پولیس اہلکاروں کو تمام واجبات کا حق دار قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ برطرف پولیس اہلکاروں کو ایک ماہ کے اندر بقایا جات ادا کیے جائیں۔ عدالت نے پولیس اہلکاروں کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 9 زندگی کی ضمانت دیتا ہے جس میں روزگار کا تحفظ بھی شامل ہے۔

آنکھوں کے طبی ماہرین نے اڈیالہ جیل میں بانی چئیرمین پی ٹی آئی کی آنکھوں کا معائنہ کیا، عطاء اللہ تارڑ

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اب حاکمیت کے بجائے جواز کے کلچر کی ضرورت ہے، ہر سرکاری افسر آئین کے تحت عقلی اور معقول جواز فراہم کرنے کا پابند ہے۔ صوابدیدی اختیارات کا استعمال امانت ہے، جسے ذاتی پسند و ناپسند کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، اور غیر منصفانہ یا من مانے فیصلے کرنے والے حکام کے خلاف عدالتی مداخلت ناگزیر ہے۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ ملازم کا یہ کہنا ہی کافی ہے کہ وہ بیروزگار تھا اور اسے اپنی بےگناہی ثابت کرنے کے لیے بھٹکنا نہیں پڑے گا، جھوٹا ثابت کرنے کے ثبوت فراہم کرنا محکمے کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ نظام کی خرابی یا مقدمے بازی میں طویل تاخیر کی سزا غریب ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔ یاد رہے کہ خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل نے پہلے پولیس اہلکاروں کو پچھلے واجبات دینے سے انکار کیا تھا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.