وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا اعلان ’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘ ثابت ہوا، سہیل آفریدی انتظامی سطح پر فارغ تھے اور اب سیاسی طور پر بھی فارغ ہیں۔
اسلام آباد میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی لانگ مارچ کی کوئی تیاری ہی نہیں تھی، 27 ستمبر کے مارچ کی تاریخ بھی انہوں نے خود دی تھی۔ سہیل آفریدی کی اپنی پارٹی پر ’رٹ‘ ختم ہوچکی ہے اور وہ اپنی انتظامی ساکھ بھی کھو چکے ہیں، پی ٹی آئی اتنی کمزور کبھی نہیں تھی جتنی اب ہوچکی ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کا حکومت سے گاڑیوں اور کنٹینرز کا معاوضہ دینے کا مطالبہ
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کا دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے اور پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مذمت کرنے سے بھی گریزاں ہے۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہی ہیں، ہم ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کے لیے جان دینے کو تیار ہوں، پی ٹی آئی یہ کہنے تک کو تیار نہیں، اگر 13 سال میں دہشت گردی ختم نہ ہوسکی تو ان کو ملنے والے پیسے کہاں خرچ ہوئے؟ خیبرپختونخوا میں جو پہلی صف میں ہیں وہ پولیس ہے، ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پی ٹی آئی سے رابطے رہتے ہیں اور سیاسی بہتری کی گنجائش رہتی ہے، گورنر راج کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم نے پوری امت مسلمہ کا مقدمہ لڑا، فلسطینی نمائندوں نے دل کھول کر وزیراعظم کی تقریر کو داد دی۔ ہمارے فلسطینیوں کے لیے جذبات عملی طور پر سب کے سامنے ہیں اور پاکستانی قوم فلسطینیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے فلسطین کا مقدمہ لڑا اور اسرائیل کی مذمت کی، پوری دنیا میں وزیراعظم پاکستان کی تقریر کو سراہا گیا۔
اس موقع پر اختیار ولی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے بھاگنا ہی تھا تو پھر اعلانات کیوں کیے تھے؟ پی ٹی آئی ارکان اپنے ورکرز سے جھوٹ بولتے ہیں۔ ایک آڈیو لیک ہوئی اور یہ چاہتے تھے کہ اعلان کون کرے گا، یہ اعلان کروانے کے لیے کسی کوشش میں تھے کہ کوئی سامنے آئے۔ 27 ستمبر کے لیے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا گیا تھا، عاطف خان اور شہرام ترکئی نے خود کہا کہ کال دینے والے غائب ہوجاتے ہیں۔