پاکستان کی معیشت پر Harvard University میں ایک اعلیٰ سطح کی پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ Muhammad Aurangzeb نے مشرق وسطیٰ کے تنازعے کو عالمی معیشت کے لیے بڑا سپلائی شاک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے توانائی کی فراہمی میں تسلسل برقرار رکھا، ابتدائی سبسڈی کے بعد توانائی قیمتوں کی مکمل منتقلی کی گئی جبکہ ٹارگٹڈ سبسڈی کا سلسلہ جاری ہے، اور ملک نے بحران کے باوجود صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھالا۔
صدر ٹرمپ کی مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو پر سخت تنقید، کمزور اور خطرناک قرار دیدیا
ان کا کہنا تھا کہ یورو بانڈ کی ادائیگی “نان ایونٹ” رہی، جس سے بیرونی ادائیگیوں پر اعتماد کا اظہار ہوتا ہے، کراچی پورٹ پر ٹرانزٹ ٹریفک میں ریکارڈ اضافہ ہوا جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں مارچ کے دوران ریکارڈ ترسیلات زر موصول ہوئیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ترسیلات زر پائیدار حل نہیں اور برآمدات پر توجہ دینا ضروری ہے۔
Muhammad Aurangzeb نے کہا کہ اصل چیلنج اصلاحات پر عملدرآمد ہے، ٹیکس نظام میں بہتری اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ Federal Board of Revenue میں ڈیجیٹائزیشن اور آٹومیشن کا عمل جاری ہے، اور صنعت کے لیے مستقل سبسڈی کے خاتمے کے ساتھ مسابقتی ماڈل اپنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیرف میں اصلاحات اور عالمی منڈی سے انضمام کی کوششیں جاری ہیں، ملک میں شمسی توانائی کی پیداوار 8000 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے اور قابل تجدید توانائی کے حصے میں مزید اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ چاروں صوبوں میں زرعی آمدن ٹیکس سے متعلق قانون سازی مکمل ہو چکی ہے، جبکہ 28 سرکاری اداروں کو نجکاری کے لیے پرائیویٹائزیشن کمیشن کے حوالے کیا گیا ہے، اور آبادی میں اضافہ و ماحولیاتی تبدیلی جیسے بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے ساتھ کاروباری ماحول کو بہتر بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔