برطانوی جریدے The Economist نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر Donald Trump ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے اور اب وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔
رپورٹ کے مطابق ہر جنگ میں کم از کم ایک فریق کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور اگر ایران میں جاری کشیدگی سیز فائر پر ختم ہوتی ہے تو سب سے بڑی سیاسی شکست ٹرمپ کو ہو سکتی ہے۔
The Economist کے مطابق ایران کے خلاف اس جنگ نے امریکی طاقت کے استعمال سے متعلق صدر ٹرمپ کے وژن کی کمزوری کو واضح کر دیا ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ ان کی حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اب دوبارہ جنگ کی طرف جانے سے گریز کریں گے، کیونکہ وہ سمجھ چکے ہیں کہ ابتدا ہی میں اس جنگ کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ ایران کو تباہ کرنے سے متعلق ان کے اشتعال انگیز بیانات اب ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے وہ اپنی پسپائی کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
نام نہاد ناکہ بندی کے بعد آپ 4 ڈالر والے پیٹرول کو یادکرینگے، قالیباف کا ٹرمپ کے بیان پر طنز
The Economist کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ نئی جنگ عالمی منڈیوں میں خوف و ہراس پیدا کرے گی اور ان کے “سنہری دور” کے دعوے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کو زیادہ محفوظ اور خوشحال بنانا، ایرانی حکومت کا خاتمہ، اور ایران کو مستقل طور پر جوہری طاقت بننے سے روکنا جیسے ان کے بڑے مقاصد بڑی حد تک حاصل نہیں ہو سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس بھی پسپائی اختیار کرنے کی وجوہات موجود ہیں، کیونکہ اس کے رہنما مسلسل نشانے پر ہیں اور توانائی و نقل و حمل کے نظام کو پہنچنے والا نقصان ملک کو چلانا مشکل بنا سکتا ہے۔ ایران پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں بھی ہے۔
The Economist کے مطابق ایران کو یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ وقت مذاکرات میں اس کے حق میں جا رہا ہے، کیونکہ امریکا طویل عرصے تک اپنی فوج کو حملے کے لیے تیار نہیں رکھ سکتا۔ ایران کی بحری اور فضائی طاقت محدود ہے جبکہ اس کے کئی میزائل اور ڈرون یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا استعمال کیے جا چکے ہیں، اور مزید تیاری کے لیے اسے کمزور معیشت کا سامنا ہے جو متعدد حملوں سے متاثر ہو چکی ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ جنگ جوہری خطرے میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔ اگرچہ ایران کی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، لیکن اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم اب بھی موجود ہے جو کئی جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ پابندیوں کے خاتمے کی خواہش کے ساتھ ساتھ مستقبل کے حملوں سے بچاؤ کے لیے جوہری ہتھیار بنانے کی ترغیب بھی بڑھ سکتی ہے، جو خطے میں جوہری پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔
The Economist نے مزید کہا ہے کہ امریکا میں اسرائیل کے حوالے سے رائے عامہ بھی منفی ہوتی جا رہی ہے، جس سے اس کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ جنگ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ صرف طاقت ہی سب کچھ نہیں ہوتی۔ اگرچہ امریکا کو فوجی برتری حاصل تھی، لیکن ایران نے محدود وسائل کے باوجود غیر متوازن جنگ لڑی، اور بغیر واضح حکمت عملی کے طاقت کے استعمال نے امریکی قوت کو کمزور کیا۔