او جی ڈی سی اور فرانسیسی کمپنی ایس این ایف کے درمیان کنڑ اور پاساکھی آئل فیلڈز میں واٹر انجیکشن سسٹمز نصب کرنے کا معاہدہ
اسلام آباد: پاکستان کی معروف تیل و گیس تلاش و پیداوار کمپنی او جی ڈی سی نے منگل کے روز فرانسیسی خصوصی کیمیکل کمپنی ایس این ایف ایس اے کے ساتھ سندھ کے ضلع حیدرآباد میں واقع کنڑ اور پاساکھی آئل فیلڈز میں جدید واٹر انجیکشن سسٹمز کی تنصیب اور آپریشن کے لیے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کی تقریب او جی ڈی سی ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر توانائی (پٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک، او جی ڈی سی کے ایم ڈی/سی ای او احمد حیات لک، پاکستان میں فرانسیسی سفیر نکولس گیلے اور دونوں اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اس منصوبے کا مقصد جدید واٹر انجیکشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ریزروائر پریشر کو بہتر بنانا، تیل کی بازیابی میں اضافہ کرنا اور پیداوار کی کارکردگی کو پائیدار بنانا ہے۔ منصوبہ تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں نو ماہ کے دوران تنصیب، کمیشننگ اور ٹیسٹنگ شامل ہوگی۔ اس کے بعد دو سالہ آپریشنز اور مینٹیننس مرحلہ ہوگا، جس میں او جی ڈی سی کے ماہرین کو تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔ اس مدت کے بعد ٹیکنالوجی اور آپریشنل کنٹرول او جی ڈی سی کو منتقل کر دیا جائے گا تاکہ کمپنی خود مختار طور پر نظام چلا سکے۔ نصب کردہ سہولیات کی متوقع آپریشنل مدت تقریباً 20 سال ہوگی۔
منصوبے سے تیل کی پیداوار میں تقریباً 9 ملین بیرل اور گیس کی پیداوار میں 3 ارب مکعب فٹ اضافے کی توقع ہے، جبکہ فیلڈز کے ریکوری فیکٹر میں 8 سے 10 فیصد بہتری متوقع ہے۔ اس منصوبے سے مجموعی طور پر تقریباً 460 ملین امریکی ڈالر کی اضافی آمدن حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
منصوبے کے ماحولیاتی فوائد بھی نمایاں ہیں، کیونکہ پراسیس شدہ پانی کو دوبارہ ریزروائر میں داخل کرنے سے محفوظ انداز میں ضائع کیا جا سکے گا اور ماحولیاتی خطرات میں کمی آئے گی۔ یہ اقدام عالمی ماحولیاتی معیار اور پائیدار آپریشنل طریقہ کار کے مطابق ہے۔
یہ شراکت داری او جی ڈی سی کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے پاکستان کے توانائی کے شعبے میں طویل مدتی ترقی اور آپریشنل بہتری کو فروغ دے۔