سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی فرینڈ آف دی کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل میں دستیاب سہولیات کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے جیل میں سیکیورٹی، خوراک اور ہوا و روشنی کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ صفائی اور کپڑے دھونے کے انتظامات بھی مناسب قرار دیے گئے ہیں۔ سردی کے موسم میں ہیٹر اور گرم پانی دستیاب ہے جبکہ گرمیوں میں کولر فراہم کیا جاتا ہے۔ تاہم مچھر اور کیڑوں کے مسئلے کے ساتھ دو سے تین بار فوڈ پوائزننگ بھی ہوئی۔
ان کے سیل میں تقریباً 10 کیمرے نصب ہیں، تاہم کمرے کے اندر کوئی کیمرہ نہیں۔ سیل کے قریب 30×12 فٹ کا گرین ایریا موجود ہے تاکہ دھوپ لی جا سکے۔ خوراک کے حوالے سے انہیں ناشتے میں کافی، دلیہ اور کھجوریں ملتی ہیں اور پورے ہفتے کے مینیو کا انتخاب خود کرتے ہیں۔ ہفتے میں 2 دن چکن، 2 دن گوشت اور 2 دن دال یا چاٹ/سینڈوچ دیا جاتا ہے جبکہ نیسلے کا بوتل بند پانی بھی فراہم ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایچیسن کالج کے طلبا و اساتذہ کے ساتھ نشست
روزمرہ معمولات میں صبح 9:45 پر ناشتہ، ایک گھنٹہ قرآن پڑھنا، جسمانی ورزش کے لیے محدود آلات اور شام 5:30 سے رات 10 بجے تک سیل میں قیام شامل ہیں۔ سیل میں تقریباً 100 کتابیں دستیاب ہیں جبکہ 32 انچ کا ٹی وی استعمال نہیں ہو رہا۔ دانتوں کا چیک اپ دو سال سے نہیں ہوا۔
ملاقاتوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ پانچ ماہ تک وکلا اور اہل خانہ سے ملاقات نہیں ہوئی، تاہم جیل سپرنٹنڈنٹ کی تبدیلی کے بعد اہلیہ سے ہفتے میں ایک دن 30 منٹ ملاقات کی اجازت ملی۔ 2025 میں بیٹوں قاسم اور سلمان سے دو مرتبہ ٹیلیفون پر رابطہ کرایا گیا۔
طبی امور میں عمران خان نے بتایا کہ وہ دو سال چار ماہ سے قید میں ہیں، اکتوبر 2025 تک نظر 6/6 تھی مگر بعد میں دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی اور اب صرف 15 فیصد کام کر رہی ہے۔ انہیں بلڈ کلاٹ ہونے کے بارے میں بتایا گیا۔ ملاقات کے دوران آنکھوں سے مسلسل پانی نکلتا رہا اور تین ماہ تک علاج صرف آنکھوں کے قطروں سے کیا گیا جس سے فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان، ڈاکٹر عاصم یوسف یا کسی ماہر آنکھوں کے ڈاکٹر سے فوری معائنے کا مطالبہ کیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی ریاستی تحویل میں ہیں اور انہیں دیگر قیدیوں کی طرح یکساں طبی سہولیات دی جائیں، کسی کو غیر معمولی رعایت نہیں دی جائے گی۔ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
عدالت نے ہدایت کی کہ یہ اقدامات 16 فروری سے قبل مکمل کیے جائیں اور کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں معائنہ کرنے کی استدعا مسترد کردی گئی۔ عدالت نے واضح کیا کہ صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔