پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے ممکنہ فیصلے کو قانونی محاذ پر چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نوٹیفائی کرنا سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کی صریح خلاف ورزی ہوگی، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
پنجاب: سرکاری محکموں میں پیٹرول اورڈیزل گاڑیوں کی خریداری پرپابندی لگانے کا فیصلہ
اکبر ایس بابر نے سپریم کورٹ کے 2018 کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتِ عظمیٰ پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ کوئی بھی سزا یافتہ شخص سیاسی فیصلے کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ ان کے مطابق قومی اسمبلی کے رولز اسپیکر کو اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ وہ کسی سزا یافتہ فرد کی ایما پر اپوزیشن لیڈر کا تعین کریں، اور ایسا کوئی بھی اقدام توہینِ عدالت کے زمرے میں آئے گا۔
انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال کو "مک مکا کی سیاست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس روش نے عوام کو بدحال اور حکمرانوں کو خوشحال بنایا ہے۔ اکبر ایس بابر نے عزم ظاہر کیا کہ وہ ملک دشمن سیاست اور انتشار پھیلانے والے عناصر کے خلاف سیاسی، قانونی اور میڈیا کے محاذوں پر بھرپور جنگ لڑیں گے اور مفاہمت کے نام پر ہونے والی اس سیاست کو دفن کر دیں گے۔