اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں حکومت نے قومی احتساب بیورو (نیب) قانون میں ترمیم کا بل مزید غور کے لیے واپس لے لیا، جب کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) ترمیمی بل 2025 اور فیڈرل پراسیکیوشن سروس ترمیمی بل 2025 منظور کر لیے گئے۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر کی عدم تقرری پر پی ٹی آئی کے شدید احتجاج کے باعث ایوان میں ہنگامہ آرائی جاری رہی۔
آذربائیجان کے صدر کی دعوت پر وزیراعظم باکو پہنچ گئے
اجلاس کی صدارت پریزائیڈنگ افسر سینیٹر منظور کاکڑ نے کی۔ وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے نیب قانون میں ترمیم کا بل واپس لیتے ہوئے کہا کہ اس پر مزید مشاورت کی ضرورت ہے۔ ایوان نے اس کے بعد سی ڈی اے ترمیمی بل اور فیڈرل پراسیکیوشن سروس ترمیمی بل 2025 منظور کر لیے۔
دورانِ اجلاس سینیٹر اعظم سواتی نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا معاملہ اٹھایا اور مؤقف اختیار کیا کہ اپوزیشن لیڈر کے بغیر ایوان نامکمل ہے۔ وزیرِ قانون نے وضاحت دی کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کے اختیار میں ہے اور چیئرمین کی واپسی پر یہ عمل مکمل کیا جائے گا۔
پریزائیڈنگ افسر کی جانب سے سینیٹر فیصل جاوید کے بجائے سینیٹر ایمل ولی کو فلور دینے پر پی ٹی آئی ارکان نے احتجاج کیا۔ اس دوران ایمل ولی اور پی ٹی آئی سینیٹرز کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جس سے ایوان میں شور شرابا بڑھ گیا اور ماحول مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا۔
اپوزیشن کی جانب سے کورم کی نشاندہی بھی کی گئی تاہم کارروائی جاری رہی۔ بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس ہفتہ کی صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔