و لوگ سیاست پہ بحث کررھے تھے۔بحث کرتے کرتے گرما گرمی ہوگئی۔ایک کا موقف تھا کہ بھٹو شہید ہے جبکہ دوسرے کا کہنا تھا کہ ضیاءالحق شہید ہے۔جب وہ گتھم گھتا ہونے لگے تو ساتھ ہی بیٹھا ایک بزرگ بولا بیٹا کیوں لڑرھے ہو؟؟؟
ان میں سے ایک بولا بابا جی یہ فضول بحث کررھا ہے اس کو میں کہہ رھا ہوں کہ بھٹو شہید ہے اور وہ کہہ رھا ہے کہ ضیاءالحق شہید ہے۔بزرگ بولے بس اتنی سی بات پہ لڑ رھے ہو۔۔۔۔!!!!!!!
ادھر آو میرے پاس بیٹھو۔۔۔۔ جو یہ کہہ رھا ہے کہ بھٹو شہید ہے۔اللہ اس کو بھٹو جیسی شہادت نصیب کرے اور جو یہ کہہ رھا ہے کہ ضیاءالحق شہید ہے ۔اللہ اس کو ضیاالحق والی شہادت دے۔
وہ دونوں ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے اور بغیر کچھ بولے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے سر کو نفی میں ہلاتے ہوئے وہاں سے بھاگ نکلے۔
قسم سے بات تو سچ تھی بابا جی کی۔ہم خواہ مخواہ لڑرھے ہیں۔کوئی آوے ہی آوے اور کوئی جاوے ہی جاوے۔کوئی زندہ باد اور کوئی مردہ باد۔لیکن اوپر بیٹھے تمام سیاسی قائدین چاھے حزب اقتدار سے ہوں یا حزب اختلاف سے وہ اس کھیل کو انجوائے کررھے ہیں۔اب تو حالت بالکل ہی بدل گئی ہے۔اب تو جمہوریت بھی سارے سسٹم کو سمجھ گئی ہے۔وہ بہت سمجھدار ہوگئی ہے۔جمہوریت کو پتہ ہے کہ اس کی سروایول کیسے ہے۔جمہوریت کو کہاں سے فائدہ پہنچ سکتا ہے اور کہاں سے نقصان۔اب تو جمہوریت یہ بھی جانتی ہے کہ کونسے عہدے پہ بیٹھ کے اس کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے اور کونسے عہدے پہ بیٹھ کے تقویت دی جاسکتی۔جمہوریت اب باغی نہیں رھی جمہوریت اب سولو فلائیٹ بھی نہیں کرتی۔وہ اب جذبات کو ایک طرف رکھ کے مصلحت سے کام لیتی ہے۔کیونکہ اس کو زمانے میں پنپنے کے طور طریقے آگئے ہیں۔78 سال دھکے اور ہچکولے کھانے کے بعد وہ بہت سمجھدار ہوگئی ہے۔جمہوریت کو پتہ ہے کہ اس کی جان کس پرندے میں ہے۔اس لئے جمہوریت اپنی اوقات سے باھر نہیں نکلتی۔اچھا ہے اب سمجھ جانا چاھیے جمہوریت کو۔
جمہوریت ایک گھوڑا ہے۔اب اس کو نیزہ بازی یا ڈربی میں لے جاو یا تانگے کے آگے جوت کر سواریاں ڈھو لو۔۔۔جو چاھے اس سے کام لے لو۔۔۔۔
فلیکسیبلٹی ہر چیز میں ضروری ہے سوائے اس چیز کے جس کی طاقت مستقل ہو۔۔۔اصل میں یہاں جمہوریت کا ماضی اچھا نہیں تھا۔اس ماضی کو لے کر حال بھی اچھا نہیں۔جمہوریت کی بنیاد ہی کمزور تھی یہ تو بعد میں کافی رئیپیرنگ کے بعد کچھ شکل نکلی ہے اس کی۔لیکن چلو کوئی بات نہیں جیسے تیسے ایک سسٹم چل تو رھا ہے۔
ایک ایسا سسٹم جہاں سب بے شک بے بس ہیں لیکن خوش ہیں۔پارلیمان میں دائیں طرف کی نشستوں والے بھی اور بائیں سائیڈ والے بھی سب خوش ہیں۔
ہم عجیب گول مول باتیں کرکے موضوع کو بھی گول مول کردیتے ہیں۔
بات شروع ہوئی تھی دو بندوں کی بحث سے اور چلی گئی گھوڑے اور تانگے تک۔
اصل میں آپ کو بتانا یہ چاہ رھا تھا کہ کل دو بندے بحث کررھے تھے ایک کہہ رھا تھا
ثاقب نثار اور عطاء بندیال اچھے جج تھے جبکہ دوسرا کہہ رھا تھا فائز عیسیٰ اچھا جج تھا۔ہم نے بھی اس بابے والا کلیہ استعمال کیا ۔ہم ان کی بحث میں خود ہی کود پڑے اور کہا جاو یار جس کو ثاقب نثار اچھا لگتا ہے اللہ اس کو ثاقب نثار جیسا انصاف دے اور جس کو فائز عیسیٰ اچھا لگتا ہے اس کو جب انصاف کی ضرورت پڑے تو اللہ اس کو فائز عیسیٰ جیسا انصاف دے۔
وہ دونوں مجھے غصے سے دیکھنے لگے ۔۔اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے اپنا پنجا دکھا کر ناک چڑھا کر پتلی گلی سے نکل گئے۔
بات یہ ہے کہ
پاکستان ایک آزاد ملک ہے
یہاں کی عدلیہ،پارلیمان اور صحافت سب آزاد ہیں۔پارلیمان سپریم ہے۔عدلیہ بااختیار ہے اور صحافت ذمہ دار ہے ان بائیسڈ اور ویجیلنٹ ہے ۔
پھر کیا مسلہ ہے سب کو!!!!!۔
جو سسٹم کے باھر ہے وہ آوٹ ہے۔جو سسٹم کے اندر ہیں وہ ِان ہیں۔پاکستان کے اندر رہنا ہے تو یہاں رہنے کا چال چلن بھی آنا چاھیے۔خواہ مخواہ باتیں کرنا اور فضول بحث میں الجھنا بے وقوفی ہے۔
کالم وائینڈ اپ کرنے لگا تھا کہ جاتے جاتے بیرسٹر گوھر اور گنڈا پور یاد آگئے۔
ایک بار ایسا ہوا ہے کہ ایک گھر میں میاں بیوی رہتے تھے۔
میاں اپنی بیوی کو ہر وقت اپنی بہادری کے قصے سناتا تھا۔بیوی اس کے قصے سن سن کے خوش ہوتی رہتی تھی۔ایک دن ان کے گھر چور آگئے۔چوروں نے دونوں کو ہینڈز اپ کرایا اور زمین پہ ایک دائرہ بنا دیا ۔اور کہا کہ اس دائرے سے جس نے پاوں باھر نکالا اس کو وہ گولی مار دیں گے۔اس کے بعد کیا تھا۔۔۔
انہوں نے تسلی سے چوری کی۔بہت سکون سے ان کو لوٹا عورت کے کانوں اور گلے سے بھی جیولری اتروائی
،تسلی سے اپنا کام کرنے کے بعد وہ چلے گئے۔ اور گھر کے باھر سے کنڈی لگا گئے۔کافی دیر بعد جب ان کو تسلی ہوگئی کہ چور جاچکے ہیں تو دونوں میاں بیوی نے
اسی دائرے میں کھڑے ہوکر شور مچایا۔ ہمسائیوں نے شور سن کے دروازہ کھولا۔
بیوی نے اپنے شوھر کو کہا کہ تم تو بہت اپنی بہادری کے قصے سناتے تھے ۔چور آئے تو تمھارے تو اوسان خطاء ہوگئے تھے۔بالکل بھیگی بلی بن گئے تھے۔اور انہوں نے جو دائرہ بنایا تھا اس سے باھر تک نہیں نکلے!!!!
میاں بولا۔
تم کو پتہ ہی نہیں جب چور اُس طرف منہ کرتے تھے تو میں دائرے سے پاوں باھر نکال لیتا تھا۔۔۔۔
بس دوستو۔۔۔
گنڈا پور اور بیرسٹر صاحب بھی بہادر ہیں بہت ۔وہ بھی کبھی کبھی دائرے سے پاوں باھر نکال دیتے ہیں لیکن افسوس کہ ہم وہ دیکھ نہیں پاتے۔
اچھا ہے سب کی دال روٹی لگی ہوئی ہے۔
ان کی بھی اُن کی بھی۔ہم سب کی بھی۔
وہ آگئے تو ہماری قسمتوں کے فیصلے کونسا کسی غریب نے کرنے ہیں۔اس وقت اعظم سواتی ہوگا،زلفی بخاری ہوگا ۔وہ نہ ہوا تو فواد چوہدری ہوگا ،بابر اعوان ہوگا۔۔۔
بس ٹھیک ہے۔
قوم کو بھی چاھیے کہ سانسیں چل رھی ہیں اس لئے صبر شکر کرے۔
اگر کوئی بہت دکھی بھائی ہے تو عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کی آواز میں سنے
سب مایا ہے۔