ریاض( رحمن بنگش) سعودی عرب کی عدالت نے پبلک سیکیورٹی کے سابق ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل خالد بن قرار الحربی کو اختیارات کے غلط استعمال، عوامی فنڈز میں ہیرا پھیری، جعلسازی اور رشوت کے الزامات پر 20 سال قید اور 10 لاکھ ریال جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق، خالد بن قرار الحربی کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے ان کی رشوت کے طور پر وصول کردہ ایک کروڑ سے زائد ریال، تحائف، زرعی زمین اور دیگر اثاثے ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
یہ اقدام سعودی عرب میں سرکاری اہلکاروں کے خلاف کرپشن کے خلاف جاری سخت مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد حکومتی محکموں میں شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینا ہے۔