July 14, 2024

عوام انصاف کیلئے ہماری طرف دیکھتے ہیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

0

اسلام آباد(نیوزڈیسک)چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے کہا ہے کہ عوام انصاف کیلئے ہماری طرف دیکھتے ہیں اور غصے میں کبھی بھی صحیح فیصلہ نہیں ہوتا، جب کہ ہمارا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں بلکہ دوسروں کی اصلاح کرنا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بارصدر نے درست کہاکہ بار اور بنچ ایک ہی ہیں کیونکہ آج کی بار کل کی بنچ ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو ججز اسلام آباد ہائی کورٹ کے صدر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بار بنچ کی نرسری ہے، 10 ، 15 سال بعد آپ میں سے کوئی یہاں کھڑا ہوسکتا، بار نے مستقبل بنانا اور بنچ نے اسے ساتھ لیکر چلنا ہے۔

جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ اخلاقیات کچھ دیر میں سمجھائی نہیں جاسکتی، اچھائی اور برائی ہر زمانے میں رہی، اچھائی نے ہی کامیابی حاصل کی اسے اپنانا چاہیے، ہمیں پیشہ وارانہ اچھائی اپنانی ہے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر قدروں کا چھوڑ دیں گے تو ہمارہ بطور عام انسان اور بطور وکیل ایسی زندگی نہیں ہو گی، جیسے ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ چیمبر میں صرف وکیل نہیں بنتا بلکہ اخلاقات اور طریقہ کار سکھایاجاتاہے لیکن چیمبر کا تصور ختم ہوتا جارہا ہے، پہلے جب وکیل آتا تھا تو 6 ماہ سینئر کے ساتھ گزارتا تھا، جونیئر وکیل چیمبر سے بہت سیکھتا تھا، تاہم 10-15 سالوں میں چیمبر والی تربیت ختم ہوگئی ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے کہا ہے کہ عوام انصاف کیلئے ہماری طرف دیکھتے ہیں اور غصے میں کبھی بھی صحیح فیصلہ نہیں ہوتا، جب کہ ہمارا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں بلکہ دوسروں کی اصلاح کرنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *