اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نوجوانوں کے لیے ایک نیا فریم ورک متعارف کرایا ہے، جس کے تحت 13 سے 18 سال کی عمر کے نوجوان اب خود اپنے بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس کے مالک اور آپریٹر بن سکیں گے۔
اس اقدام کا اعلان بدھ کے روز کیا گیا، جس کا مقصد نوجوانوں میں مالی شعور پیدا کرنا اور انہیں معیشت میں مؤثر حصہ لینے کے لیے تیار کرنا ہے۔
سانحہ گل پلازہ کے 72 متاثرین میں سے 61 کے اہلخانہ کو معاوضے کے چیک پہنچادیے گئے، وزیراعلیٰ کوبریفنگ
اسٹیٹ بینک کے مطابق اس فریم ورک کے تحت نوجوان اپنے اکاؤنٹس اور والٹس خود منظم کریں گے، جس سے ان میں ذمہ داری اور مالی خود مختاری کا شعور بڑھے گا۔ نئے نظام میں حفاظت اور منظم رسائی کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ نوجوان محفوظ طریقے سے رسمی مالیاتی خدمات استعمال کر سکیں اور ڈیجیٹل معیشت کے لیے ضروری مہارت حاصل کریں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ملک میں تقریباً 26 ملین نوجوان اس فریم ورک سے مستفید ہوں گے، جو مستقبل میں مالیاتی اور ڈیجیٹل لحاظ سے ماہر نسل کی نشوونما میں مددگار ثابت ہوگا۔
اس اقدام کے ذریعے نوجوانوں کو مالیاتی اداروں کی فراہم کردہ خدمات تک خود مختارانہ اور مؤثر رسائی حاصل ہوگی اور پاکستان میں مالی شمولیت کا ایک مضبوط اور نوجوان دوست نظام قائم ہوگا۔