اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آبنائے ہرمز کی بندش اور ممکنہ توانائی بحران کے پیش نظر درآمدی پیٹرولیم مصنوعات اور آر ایل این جی کی طلب کم کرنے کے لیے مرحلہ وار توانائی کی بچت کا منصوبہ اور قیمتوں کے نئے طریقہ کار کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر ہفتے ردوبدل کیا جائے گا۔
برطانوی وزیراعظم کا 4 لڑاکا طیارے ٹائفون قطر بھیجنے کا اعلان
سرکاری ذرائع کے مطابق سرکاری اجلاس ورچوئل طریقے سے منعقد کیے جائیں گے اور پہلے مرحلے میں کووڈ 19 وبا کے دوران اپنائے گئے طریقہ کار کی طرز پر تعطیلات کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ حکومت نے اس حوالے سے پہلے، دوسرے اور تیسرے مرحلے پر مشتمل حکمت عملی تیار کی ہے اور تقریباً تین سے چار درجن تجاویز مرتب کی گئی ہیں جو آج جمعہ کو وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے حتمی منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔ منظور شدہ اقدامات پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔
اعلیٰ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں حکومت سرکاری شعبے میں ان اقدامات کو نافذ کرے گی جبکہ دوسرے مرحلے میں نجی اسکولوں، جامعات اور ہسپتالوں میں آن لائن اسائنمنٹس کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔ اس کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار اضافہ کیا جائے گا۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق خطے میں ابھرتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں فنانس ڈویژن میں منعقد ہوا۔