پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس کل صبح ساڑھے دس بجے ہوگا جس سے آصف علی زرداری خطاب کریں گے۔
آصف علی زرداری نے مجلس شوریٰ یعنی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل صبح ساڑھے دس بجے طلب کیا ہے۔ اجلاس آئین کے آرٹیکل 54 (1) اور 56 (3) کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے بلایا گیا ہے۔
برطانیہ بھی ایران کے خلاف جنگ میں شریک ہوگیا
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہر پارلیمانی سال کے آغاز پر منعقد کیا جاتا ہے اور صدر مملکت کا خطاب آئینی تقاضا ہوتا ہے۔ صدر آصف علی زرداری بطور صدر پاکستان مشترکہ اجلاس سے نویں مرتبہ خطاب کریں گے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے مشترکہ اجلاس کی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے جبکہ خطے کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صدر مملکت پاکستان اور افغانستان کے درمیان ممکنہ جنگی صورتحال، امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور اس کے جواب میں خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی اظہار خیال کریں گے۔
صدر کے خطاب میں حکومت کی دو سالہ کارکردگی، قومی ترجیحات، جمہوری استحکام، آئینی بالادستی، پائیدار معاشی ترقی، خطے اور عالمی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف قومی عزم اور بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔