قے ہوجانے کی صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں ؟

قے ہوجانے کی صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں ؟

0

سوال: قے ہو جانے کی صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟

جواب: خود بخود بلا اختیار قے ہو جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، چاہے منہ بھر ہو یا کم ہو۔ قصداً (جان بوجھ کر) قے کرنے سے اگر منہ بھر ہو تو بالاتفاق روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

پی ٹی آئی کے اسیر رہنماؤں کی ذاتی ڈاکٹر سے ملاقات نہ کرانے پر چیف جسٹس سے نوٹس لینے کی اپیل

تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے:
ترجمہ: "اگر بلااختیار قے ہو گئی اور حلق میں نہ لوٹی تو مطلقاً روزہ نہیں ٹوٹے گا، خواہ منہ بھر ہو یا منہ بھر نہ ہو۔”

مزید لکھتے ہیں:
ترجمہ: "اور اگر قصداً (جان بوجھ کر) قے کی، یعنی اسے اپنا روزے دار ہونا یاد تھا، تو اگر منہ بھر ہے تو اس پر اجماع ہے کہ روزہ ٹوٹ گیا۔ اور اگر منہ بھر سے کم ہے تو روزہ نہیں ٹوٹا، اور صحیح مذہب کے مطابق منہ بھر سے کم میں نہیں ٹوٹتا۔” (جلد 3، ص: 349 تا 352)

علامہ نظام الدین رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں:
ترجمہ: "قے کے یہ احکام اس وقت ہیں جب قے میں کھانا یا صفراء یا خون آئے، اگر بلغم آیا تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔” (فتاویٰ عالمگیری، جلد 1، ص: 204)

ترجمہ: "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے بے اختیار قے کی، اس پر قضا نہیں اور جس نے قصداً قے کی، اس پر روزے کی قضا ہے۔” (سنن ترمذی: 720)

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.