27ویں آئینی ترمیم کے بعد عوامی مفاد کی پہلی درخواست آئینی عدالت میں دائر کر دی گئی ہے۔
تقویم شاہ کی جانب سے یہ درخواست حافظ احسان کھوکھر کے توسط سے دائر کی گئی، جس میں بلوچستان حکومت اور ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست کوئٹہ کے سمنگلی روڈ پر فلائی اوور کی تعمیر کے خلاف دائر کی گئی ہے۔
تحریکِ انصاف کا خیبر پختونخوا بھر میں احتجاج، پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فلائی اوور بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف نیفرولوجی کی زمین پر تعمیر کیا جا رہا ہے، لہٰذا عدالت فلائی اوور کی تعمیر فوری طور پر روکنے کا حکم دے۔ درخواست کے مطابق فلائی اوور کی تعمیر اسپتال کے بالکل ساتھ اور اس کی زمین پر ہو رہی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف نیفرولوجی صوبے کا واحد گردوں کا اسپتال ہے جہاں دور دراز اضلاع سے آنے والے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ فلائی اوور کی تعمیر مریضوں کی جانوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے، ایمبولینس کی آمدورفت، ایمرجنسی رسائی اور ڈائیلاسز کی سہولیات متاثر ہو رہی ہیں جبکہ بھاری مشینری، شور اور دھول کے باعث اسپتال کا ماحول غیر محفوظ ہو چکا ہے۔
درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا کہ بغیر کسی قانونی کارروائی کے اسپتال کی زمین استعمال کی جا رہی ہے اور لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت نہ کوئی نوٹس دیا گیا اور نہ ہی معاوضہ ادا کیا گیا۔ اس اقدام کو آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 کے تحت حقِ ملکیت کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا ازالہ صرف مالی معاوضے سے ممکن نہیں اور انسانی صحت کو ٹریفک سہولت پر قربان نہیں کیا جا سکتا، جبکہ اسپتال انتظامیہ نے اس مقام پر انڈر پاس بنانے کی تجویز بھی دی تھی۔