لاہور: وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھارت ہے۔
عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ امن کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اور بلوچستان کا امن و ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو شہید کرنے والے انسانیت سے ناآشنا ہیں۔
طالبان نے نائن الیون سے پہلے کے دور سے زیادہ خطرناک حالات پیدا کردیے ہیں: صدر پاکستان
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ بلوچستان کے محب وطن پاکستانی ہیں، لیکن جب تک اس خطے کے مسائل کی صحیح نشاندہی نہیں ہوگی، ان کا حل ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے پیچھے بھارت ہے اور بلوچستان میں دو الگ بحران موجود ہیں جنہیں الگ طریقے سے حل کرنا ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ بچوں اور خاندانوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر نشانہ بنایا جاتا ہے، اور یہ عمل دہشت گردی ہے، نہ کہ بلوچستان کے لوگوں کی جانب سے۔ فیصل آباد میں بلوچستان کے لوگ اربوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں، اور کسی نے کبھی انہیں برا بھلا نہیں کہا۔
رانا ثناء اللہ نے جعفر ایکسپریس کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی میڈیا اس پر جشن مناتا رہا، اور ایسے لوگوں کو نجات دہندہ کہنا افسوسناک ہے، کیونکہ نجات دہندہ کبھی پلوں یا اسپتالوں کو نقصان نہیں پہنچاتا۔
جبری گمشدگیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ دہشت گردی کے خاتمے کے بعد حل ہوگا، اور دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ یہ مسائل بھی ختم ہو جائیں گے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ کامیابی بھارتی بوکھلاہٹ کا سبب بنی ہے۔