کراچی: امیر جماعت اسلامی بہت جلد تحریک عدم اعتماد کے ذریعے قابض میئر کو بھاگنے پر مجبور کریں گے، مسلم لیگ ن سمیت سٹی کونسل میں موجود تمام جماعتوں سے رابطے جاری ہیں۔
ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی کے شہری ظالم سندھ حکومت سے جینے کا حق چاہتے ہیں جو سترہ سال سے لوگوں کو ان کا حق دینے کو تیار نہیں ہے، شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کے بعد سندھ حکومت میں کھلبلی مچی ہوئی، چار گھنٹے کے مارچ سے حکمرانوں کی چیخیں نکل گئیں، کبھی وزیر اعلیٰ سندھ، کبھی وزیر داخلہ اور کبھی قابض میئر مرتضیٰ وہاب پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں۔
سعودی عرب نے عالمی سطح پراونٹوں کیلئے ’پاسپورٹ‘ کے اجرا کا اعلان کردیا
منعم ظفر خان نے کہا کہ انہیں پریشانی ہے کہ شاہراہ فیصل کیوں بند کی لیکن جس طرح پورا شہر کھنڈر بنا ہوا ہے وہ نظر نہیں آتا، یونیورسٹی روڈ، جہانگیر روڈ، کریم آباد سمیت پورا شہر تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ شہر میں حکمرانوں نے کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ وزیر داخلہ دھمکی دیتے ہیں کہ ہم سختی کریں گے اور دہشت گردی کی دفعات لگائیں گے، آپ اپنا یہ شوق بھی پورا کر لیں لیکن آپ کو کراچی کو جینے کا حق دینا ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ مرتضیٰ وہاب سندھ پر قابض سسٹم کا ماؤتھ پیس ہیں۔ سندھ حکومت کہیں کچے اور کہیں پکے ڈاکوؤں کی سرپرستی کر رہی ہے، شہر کے لوگوں کو ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، رواں سال ڈکیتی مزاحمت پر گیارہ لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں۔
منعم ظفر خان نے کہا گل پلازہ کے متاثرین ابھی تک اسپتالوں اور ڈی سی آفس کے دھکے کھا رہے ہیں، جس ظلم کا کراچی کے لوگ سامنا کر رہے ہیں اس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا، وزیر اعظم کو کراچی سے کوئی غرض نہیں، گل پلازہ سانحے کے بعد وزیر اعظم کو کراچی آنے کی توفیق نہیں ہوئی، گزشتہ سال شہباز شریف صرف ایک بار کراچی آئے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آٹھ فروری 2024 کو انتخابی دھاندلی تاریخ رقم کی گئی اور عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، نہ صرف پورے پاکستان اور کراچی میں ایسے لوگوں کو مسلط کیا گیا جنہیں عوام نے مکمل مسترد کر دیا تھا، پندرہ سیٹیں ایم کیو ایم اور سات سیٹیں پیپلز پارٹی کے حوالے کر دی گئیں جو اس نے خواب میں بھی نہیں سوچی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سارا کھلواڑ الیکشن کمیشن نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کیا، دو سال بعد بھی الیکشن ٹربیونلز میں کیسز چل رہے ہیں، آٹھ فروری کو الیکشن کمیشن کے باہر عوامی پریس کانفرنس کی جائے گی، چودہ فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر عظیم الشان دھرنا ہوگا، یہ اپنے ایف آئی آر کے شوق پورے کر لیں، لیکن ہم ان حکمرانوں کو آئینہ دکھاتے رہیں گے۔