کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ڈیپ فیک اور اے آئی سے تیار شدہ جعلی مواد حکومت اور معاشرے دونوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
شہر قائد میں جاری کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس کے دوسرے روز فیک نیوز اور آرٹیفشل انٹیلیجنس کے سیشن میں شرجیل انعام میمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ صرف حکومت تک محدود نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں اور عوام کے لیے بھی سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمۂ اطلاعات 24 گھنٹے صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے، لیکن جعلی اور حقیقی مواد کی شناخت کے لیے مؤثر نظام اور اے آئی ڈیٹیکشن ٹول کی ضرورت ہے۔
لاہور قلندرز نے مستفیض کو ڈائریکٹ سائن کرلیا، شاہین کو کتنے کروڑ میں ریٹین کیا؟
انہوں نے واضح کیا کہ جھوٹی خبریں، آواز اور ویڈیوز کی نقل سازی کے ذریعے پھیلائی جا رہی ہیں، اور حکومت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، ایکس، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ جعلی مواد پھیلانے والوں کو قانونی نتائج بھگتنے ہوں گے اور مسئلے کے حل کے لیے مضبوط قانون سازی ناگزیر ہے۔
قومی اسمبلی کے رکن دانیال چوہدری نے کہا کہ حکومت نے اقدامات کیے ہیں، مگر فیک نیوز سے متعلق مزید جامع فریم ورک اور قوانین کی ضرورت ہے۔ بلوچستان سے رکن اسمبلی فرح عظیم شاہ نے کہا کہ دہشت گرد گروہ جعلی خبریں اور بدلی ہوئی ویڈیوز استعمال کر رہے ہیں تاکہ شہریوں میں خوف پیدا کیا جا سکے اور ریاست و عوام کے درمیان اعتماد کمزور ہو۔
کانفرنس کے دوسرے سیشن میں موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر سینیٹر شیری رحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک کا بے دریغ استعمال اور ری سائیکلنگ کی کمی خطرناک ہے، جبکہ پانی، ہوا اور درخت محدود وسائل ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔
قومی اسمبلی کی رکن تمکین اختر نیازی نے بتایا کہ پانی صاف کرنے کے جدید طریقوں کی ضرورت ہے، اور وفاقی سطح پر این ڈی ایم اے سیٹلائٹ امیجنگ کے ذریعے سیلاب، ہیٹ ویو اور خوراک و پانی کی کمی کے ممکنہ علاقوں کی نگرانی کر رہا ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر زور دیا گیا کہ ماحولیاتی اقدامات صرف حکومتی ذمہ داری نہیں بلکہ اخلاقی فریضہ بھی ہیں، اور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔