دہشت گردی کو صرف طاقت سے نہیں، اسباب ختم کرکے روکا جا سکتا ہے، حافظ نعیم

دہشت گردی کو صرف طاقت سے نہیں، اسباب ختم کرکے روکا جا سکتا ہے، حافظ نعیم

0

لاہور میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کو صرف طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ اس کے اسباب ختم کرکے ہی روکا جا سکتا ہے۔ منصورہ میں جماعت اسلامی کے تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت سے قبضہ چھڑوانا ناگزیر ہوچکا ہے، جبکہ کشمیر اور فلسطین جیسے بنیادی قومی اور عالمی مسائل پر حکمرانوں کی خاموشی اور کمزوری انتہائی تشویشناک ہے۔

لاہورمیں بسنت کےدوران پولیو مہم 6 سے 8 فروری تک بلاتعطل جاری رہےگی

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کی شمولیت کے بغیر کسی بھی قسم کی ثالثی قابل قبول نہیں ہو سکتی اور غزہ سے متعلق ایسے کسی عالمی فورم کا حصہ بننا درست نہیں جو فلسطینی مؤقف کے خلاف ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مقصد کے لیے قائم ہوا تھا کہ یہاں اللہ کا نظام نافذ ہوگا، عدل و انصاف قائم ہوگا، نہ کہ چند خاندان اقتدار اور وسائل پر قابض ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوامی رائے کو دباکر فارم 47 کے ذریعے حکومتیں مسلط کی جاتی رہیں تو ملک کے مسائل مزید بڑھتے جائیں گے، جبکہ جماعت اسلامی چہروں کی نہیں بلکہ پورے نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کر رہی ہے۔

انہوں نے سندھ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پورے پاکستان کی معیشت کا مرکز اور تمام قومیتوں کا شہر ہے، اسے لسانی یا خاندانی سیاست کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی پر قابض جعلی حکومت سے قبضہ چھڑوانا عوام کا حق ہے اور اس مقصد کے لیے جماعت اسلامی عوامی طاقت کے ذریعے جدوجہد کرے گی، جبکہ اس سلسلے میں احتجاجی دھرنے کو روکنا حکومت کے بس کی بات نہیں ہوگی۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بدامنی سنگین صورتحال اختیار کرچکی ہے اور دہشت گردی کو صرف طاقت سے نہیں بلکہ اس کے اسباب ختم کرکے ہی روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہشت گردوں کو مقامی سطح پر سہولت کیسے ملتی ہے، جو ریاستی اور انتظامی ناکامی کی واضح علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچوں اور قبائلی علاقوں کے عوام کو عزت، احترام اور انصاف درکار ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں بدترین گورننس کی مثال دو بڑی سیاسی جماعتیں ہیں جو نہ نظام چلا سکتی ہیں اور نہ ہی عوام کو سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جا رہے اور بلدیاتی نظام کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، حالانکہ آئین اس کی واضح ہدایت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ برین ڈرین ہے، جہاں ڈاکٹر، انجینئر اور آئی ٹی ماہرین ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت کے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ ٹیلنٹ ایکسپورٹ کرکے زرمبادلہ حاصل کیا جائے گا اور کہا کہ یہ بیمار سوچ کی عکاسی ہے۔ ان کے مطابق اگر ملک میں روزگار اور ترقی کے مواقع پیدا کیے جائیں تو قابل افراد باہر جانے پر مجبور نہیں ہوں گے۔

امیر جماعت اسلامی نے نجکاری پالیسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے اداروں کو کرپشن اور نااہلی سے تباہ کیا جاتا ہے اور پھر انہیں بیچ کر کامیابی کا جشن منایا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر گورننس واقعی بہتر ہے تو سرکاری اداروں کو آؤٹ سورس اور قومی اداروں کو فروخت کیوں کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سیاست کو عبادت سمجھ کر کرتی ہے اور اس کا مقصد ذاتی یا گروہی مفاد نہیں بلکہ عوامی خدمت اور ایک منصفانہ نظام کا قیام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی میں مسلک، نسل یا زبان کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کی جاتی اور ہر وہ شخص جو اللہ، رسول اور قرآن پر ایمان رکھتا ہے اس جدوجہد کا حصہ بن سکتا ہے۔

نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور جماعت اسلامی نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی کو منظم کرکے ایک واضح لائحہ عمل کے تحت آگے بڑھائے گی تاکہ پاکستان کو قابض قوتوں سے نجات دلائی جا سکے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.