ہمدردی یا اخلاقیات قانون کی جگہ نہیں لے سکتے، ججز انصاف سے فیصلے کریں، وفاقی آئینی عدالت

ہمدردی یا اخلاقیات قانون کی جگہ نہیں لے سکتے، ججز انصاف سے فیصلے کریں، وفاقی آئینی عدالت

0

اسلام آباد:
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہمدردی یا اخلاقیات قانون کا متبادل نہیں ہو سکتیں اور ججز کو انصاف کے تقاضے قانون کے مطابق پورے کرنے چاہئیں۔

مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ ججز کے فیصلوں کی بنیاد جذبات نہیں بلکہ قانون ہونا چاہیے۔ عدالتوں کو ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی کی بنیاد پر قانون کے بجائے کوئی اور معیار لاگو کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات انتہائی مضبوط اور مثبت ہیں: برطانوی وزیرداخلہ

وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ عدالتی فیصلے ذاتی عقائد یا سیاسی حقائق پر مبنی نہیں ہو سکتے۔ عدلیہ کی ساکھ جذباتی فیصلوں میں نہیں بلکہ قانون پر سختی سے عمل درآمد میں مضمر ہے۔

عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا وہ حکم کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت ایک طالبعلم کو اسپیشل یا سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ قانون، ضابطے یا ریگولیشن میں اسپیشل یا سپر سپلیمنٹری امتحان کی کوئی گنجائش موجود نہیں، اس لیے ہائی کورٹس ہمدردی، مساوات یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر ایسے احکامات جاری نہیں کر سکتیں۔

عدالت نے کہا کہ ججز کو بلا خوف و امتیاز قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے کیونکہ پاکستان افراد کے بجائے آئین کے تحت چلنے والی ریاست ہے۔ ججز نجی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ غیر جانبدار منصف ہوتے ہیں، اور ہمدردی کو قانونی ذمہ داری پر فوقیت دینا عدالتی منصب سے انحراف کے مترادف ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ہائی کورٹس خود آئین کی تخلیق ہیں اور پاکستان کا آئینی سفر ہمیشہ قانون کے دائرے میں طے ہوا ہے، جہاں ذاتی نیک نیتی یا بے لگام اختیار آئینی نظام کا حصہ نہیں رہا۔

عدالت نے نشاندہی کی کہ ہائی کورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت محدود دائرہ اختیار رکھتی ہیں اور صرف وہی اختیارات استعمال کر سکتی ہیں جو آئین یا قانون میں فراہم کیے گئے ہوں۔ کسی بھی عدالتی فورم کو آئینی حدود سے تجاوز کا اختیار حاصل نہیں۔

واضح رہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے ایک طالبعلم گردے کی پیوندکاری کے باعث سالانہ امتحان میں شریک نہ ہو سکے تھے اور طبی وجوہات کی بنا پر سپلیمنٹری امتحان بھی نہیں دے سکے۔ طالبعلم نے اس حوالے سے وائس چانسلر کو دو درخواستیں دی تھیں، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے دونوں مسترد کر دی تھیں۔

بعد ازاں طالبعلم نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جہاں انہیں اسپیشل یا سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی، تاہم وفاقی آئینی عدالت نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایسے احکامات قانون اور آئین کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔

یہ اہم فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے 18 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے کی صورت میں جاری کیا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.