کمسن بچوں سے جنسی زیادتی اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کا ایک پرانا انٹرویو منظر عام پر آ گیا ہے، جس میں اسے یہ دعویٰ کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اس نے پاکستان اور بھارت میں انسداد پولیو مہم کے لیے رقم عطیہ کی تھی۔
نامعلوم مقام اور نامعلوم وقت پر ریکارڈ کیے گئے اس انٹرویو میں جیفری ایپسٹین نے خود کو جنسی درندہ تسلیم کیا۔
بھارت میں ہندوتوا کے بے قابو جن نے کھیلوں کو بھی سیاست زدہ کردیا ہے: مصدق ملک
انٹرویو لینے والے نے ایپسٹین سے سوال کیا کہ کیا وہ شیطان ہے، جس پر ایپسٹین نے جواب دیا کہ اسے اس سوال کا جواب معلوم نہیں، تاہم اس نے یہ ضرور پوچھا کہ آخر یہ سوال کیوں کیا جا رہا ہے۔
انٹرویو کرنے والے نے کہا کہ اس لیے کہ تم میں وہ تمام خامیاں موجود ہیں جو ایک شیطان میں ہوتی ہیں، جس پر ایپسٹین نے جواب دیا کہ وہ شیطان نہیں ہے بلکہ اسے شیطان سے خوف آتا ہے۔
برطانوی میڈیا نے امکان ظاہر کیا ہے کہ یہ انٹرویو ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ان کے چیف اسٹریٹجسٹ اسٹیو بینن نے کیا تھا۔
ایپسٹین سے یہ بھی پوچھا گیا کہ آیا اس کی دولت ناجائز ہے، جس پر اس نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔
انٹرویو لینے والے نے کہا کہ تم نے یہ دولت دنیا کے بدترین لوگوں کو مشورے دے کر حاصل کی ہے، جنہوں نے انتہائی سنگین جرائم کیے ہیں، جس پر ایپسٹین نے جواب دیا کہ اخلاقیات ہمیشہ ایک پیچیدہ موضوع رہی ہیں۔
جیفری ایپسٹین نے دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستان اور بھارت میں پولیو کے خاتمے کے لیے بھی مالی مدد فراہم کی تھی۔
ایپسٹین نے کہا کہ یہ سوال کرنے کے بجائے کہ بچوں کو ویکسین کے لیے یہ رقم دی جانی چاہیے یا نہیں، ان ماؤں سے پوچھا جانا چاہیے کہ کیا اسے یہ رقم دینی چاہیے تھی، جن کے بچوں نے ویکسین لگوائی اور وہ اب پولیو کا شکار نہیں ہوں گے۔
انٹرویو لینے والے نے فوری طور پر کہا کہ تم ریاضی دان ہو، یہ بتاؤ کہ اگر تم کسی کلینک میں جا کر غریب اور بیمار لوگوں کو بتاؤ کہ یہ رقم ایک مجرم کی طرف سے دی جا رہی ہے تو ان میں سے کتنے لوگ کہیں گے کہ انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ رقم کہاں سے آ رہی ہے۔
اس پر ایپسٹین نے جواب دیا کہ ہر شخص یہی کہے گا کہ اسے اپنے بچوں کے لیے یہ رقم درکار ہے۔
تاہم جیفری ایپسٹین کے اس دعوے کے باوجود یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ آیا واقعی اس نے پاکستان میں انسداد پولیو مہم کے لیے کوئی رقم دی تھی یا نہیں، اور اگر دی تھی تو وہ کس دورِ حکومت میں، کس شخص کے ذریعے اور کس ذریعہ سے بھیجی گئی تھی۔