عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد قیمتوں میں نمایاں گراوٹ سامنے آئی۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے نے تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھوا، تاہم اس کے فوراً بعد قیمتیں دباؤ میں آ گئیں، جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا ہو گئی۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق سونے کی قیمت 5 ہزار 594 ڈالر کی ریکارڈ حد تک پہنچنے کے بعد اچانک تقریباً 5 فیصد کمی کے ساتھ 5 ہزار 109 ڈالر پر آ گئی۔
ماہرین کے مطابق اس اچانک کمی کی بنیادی وجہ ریکارڈ اضافے کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر فروخت کا رجحان ہے۔
بلند قیمتوں پر سونا فروخت کر کے سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹنے کو ترجیح دی، جس کے باعث مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ قلیل مدت میں قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم مجموعی طور پر سونے کی کارکردگی کو اب بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق سونا ماہانہ بنیاد پر 24 فیصد اضافے کے ساتھ سال 1980 کے بعد اپنی بہترین سطح پر موجود ہے، جو عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی کے خدشات اور سرمایہ کاروں کے محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں کا دارومدار عالمی معاشی اشاریوں، امریکی ڈالر کی قدر، شرح سود اور جغرافیائی سیاسی صورتحال پر رہے گا، جبکہ سرمایہ کار مارکیٹ کے رجحانات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب، مارکیٹ میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے باعث سونے کے کاروبار سے وابستہ حلقوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے، جبکہ عام صارفین قیمتوں میں ممکنہ استحکام کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق قیمتی دھاتوں کی منڈی میں یہ اتار چڑھاؤ عارضی بھی ثابت ہو سکتا ہے، تاہم موجودہ صورتحال کو غیر یقینی قرار دیا جا رہا ہے۔