وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ بھاٹی گیٹ کے واقعے اور قتل میں کوئی فرق نہیں، ہر سطح پر مجرمانہ فعل ہوا ہے۔
لاہور کے بھاٹی چوک میں کھلے مین ہول میں خاتون اور بچی کے گر کر جاں بحق ہونے پر اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز پنجاب کے متعلقہ اداروں پر برہم ہوگئیں اور کمشنر لاہور، اسسٹنٹ کمشنر، واسا، ایل ڈی اے، ڈپٹی کمشنر لاہور، ٹریفک پولیس اور پولیس کو برابر کا ذمہ دار قرار دے دیا۔
گلگت بلتستان میں بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے سے زرعی انقلاب آئے گا، نگران وزیراعلیٰ یار محمد
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہر سطح پر مجرمانہ فعل ہوا ہے، دس دس ڈیپارٹمنٹ بیٹھے ہوئے ہیں جواب ایک کے پاس بھی نہیں، آدھا درجن انچارج ہیں لیکن جب واقعہ ہوا تو کوئی پہنچا ہی نہیں۔ کمشنر لاہور، ڈی سی لاہور، ڈی جی ایل ڈی اے اور اسسٹنٹ کمشنر کو سزا ملنی چاہیے۔ جس جگہ خاتون گریں وہاں لائٹ نہیں تھی، پینا فلیکس لگا کر سائٹ بند کی گئی لیکن روشنی کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا، تعمیراتی جگہ پر کسی قسم کی پارکنگ نہیں ہونی چاہیے تھی، وہاں کوئی پارکنگ بنا کر پیسے لیتا رہا، کسی کو بھی معلوم نہیں؟ ٹریفک پولیس کہاں ہے؟ محکمہ پولیس کہاں ہے؟ انہیں کیوں نہیں معلوم یہاں کوئی پارکنگ بنا کر پیسے لے رہا ہے؟
مریم نواز نے ٹیپا کے پروجیکٹ ڈائریکٹر، سیفٹی انچارج اور واسا کے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے اور نوکری سے برخاست کرنے کا حکم بھی دیا اور ہدایت دی کہ یقینی بنائیں کہ آئندہ انہیں دوبارہ نوکری نہ ملے۔
انہوں نے کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے لے کر متاثرہ خاندان کو دینے کی ہدایت بھی کی اور کہا یہ کوئی راجن پور، لیہ اور بھکر کی بات نہیں ہو رہی، یہ لاہور سیف سٹی میں ہوا ہے، اتنا بڑا حادثہ ہماری ناک کے نیچے ہوا، بات کو گھمانے کی کوشش کی اس طرح کہ ہمیں بھی یقین آگیا، پھر بجائے اس کے کہ خاندان کو مدد دیتے انہیں چور ڈاکو بنا کر تھانے میں لے گئے، متاثرہ خاتون کا شوہر شکایت لے کر گیا تو اسے ہی گرفتار کرلیا گیا کہ بیوی کے ساتھ اس کے تعلقات خراب تھے، اس بات کا واقعے سے کیا تعلق ہے؟
مریم نواز نے کہا کہ ایک ایک جگہ کے دس دس ادارے ہیں لیکن ذمہ دار کوئی بھی نہیں، یہ پنجاب ہے یہاں ایک ایک جان قیمتی ہے، یہاں پر میں بھی جواب دہ ہوں آپ بھی جواب دہ ہیں، ٹوئسٹ کرنے کی کوشش کی گئی کہ جیسے واقعہ نہیں ہوا، جہاں حادثہ ہوا وہاں پورے پاکستان سے لوگ آتے ہیں، جہاں اتنے لوگ آتے ہوں وہاں تعمیراتی کام کے دوران مجرمانہ غفلت کی گئی، اگر مرنے والی بچی اگر کسی انتظامی افسر کی ہوتی تو کیا پوری انتظامی مشینری ہل کر نہیں رہ جاتی؟ خاتون نالے میں تین کلومیٹر دور چلی گئی، لاہور کی انتظامیہ کہتی رہی کہ کوئی گرا ہی نہیں، جنہوں نے اس جگہ کو کھلا چھوڑا کیا ان کے گھر میں بچے نہیں ہیں؟
انہوں نے کہا کہ عظمیٰ بخاری کا اس سے کوئی تعلق نہیں جو انفارمیشن ہمیں مل رہی تھی وہی عظمیٰ بخاری کو بھی مل رہی تھی۔