sui northern 1

پاکستان نے عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کی تیاری شروع کردی

پاکستان نے عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کی تیاری شروع کردی

0
Social Wallet protection 2

پاکستان نے چار سال کے طویل وقفے کے بعد ایک بار پھر عالمی بانڈ مارکیٹ میں اپنی واپسی کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر عالمی جریدے بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں کے دوران بانڈز کے اجرا کے لیے عالمی مشیروں کے تقرر کا عمل شروع کر دے گی۔ اس وقت حکومت اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال میں ڈالر بانڈ، یورو بانڈ یا سکوک میں سے کون سا مالیاتی آلہ ملک کے لیے زیادہ موزوں اور فائدہ مند ثابت ہوگا۔

sui northern 2

ذاکر خان کا کامیڈی سے طویل وقفے کا اعلان

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک اہم پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ چینی کرنسی میں "پانڈا بانڈ” جاری کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت عالمی سرمایہ کاروں بالخصوص چین کی بڑی سرمایہ کاری مارکیٹ تک براہِ راست رسائی حاصل کی جائے گی۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ پانڈا بانڈ کا اجرا پاکستان کو چین کی کیپیٹل مارکیٹ سے جوڑ دے گا جس سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مالیاتی تنوع آئے گا۔

ملک کی معاشی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ افراطِ زر جو ماضی میں 40 فیصد کی بلند سطح تک پہنچ گئی تھی، اب کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ چکی ہے، جبکہ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں موڈیز، ایس اینڈ پی اور فچ نے بھی پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ رواں مالی سال کے اختتام تک زرِ مبادلہ کے ذخائر تین ماہ کی درآمدات کے مساوی ہو جائیں گے۔ حکومت اب برآمدات پر مبنی ترقی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تاکہ ماضی کی طرح ادائیگیوں کے توازن کے بحرانوں سے مستقل نجات حاصل کی جا سکے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان 2022 کے بعد سے عالمی بانڈ مارکیٹ سے دور تھا، لیکن آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کی جانے والی ٹیکس اصلاحات، سبسڈی میں کمی اور مالیاتی نظم و ضبط نے عالمی سطح پر ملک کا اعتماد بحال کیا ہے۔ معاشی ماہرین اس پوری پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا واضح ثبوت ہے۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں افراطِ زر میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں ہونے والا اضافہ ملکی معیشت کے لیے طویل مدتی استحکام کی عکاسی کر رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.