اسلام آباد میں نیپرا نے پاور سیکٹر کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025 جاری کر دی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکسز، ڈیوٹیز اور سرچارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں اب صارفین کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 کے دوران بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات 18.31 فیصد رہے، جبکہ نیپرا کی جانب سے ان ڈسکوز کے لیے نقصانات کی حد 11.77 فیصد مقرر کی گئی تھی۔ ان نقصانات کے نتیجے میں ایک سال کے دوران گردشی قرضوں میں 276 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز نے امتحانات کا شیڈول جاری کر دیا
رپورٹ میں مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2023-24 میں بجلی کے بلوں کی ریکوری کی شرح 92.44 فیصد رہی، اور وصولیاں کم ہونے کے باعث سرکلر ڈیٹ میں مزید 314 ارب 51 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔ اس وقت کے الیکٹرک سمیت تمام ڈسکوز کے واجب الادا بقایاجات 2 ہزار 320 ارب روپے سے زائد کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔
نیپرا کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بجلی پیدا کرنے کی کل صلاحیت 45 ہزار 888 میگاواٹ ہے، تاہم ایک سال کے دوران دستیاب بجلی کے استعمال کی شرح صرف 33.88 فیصد رہی۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ صارفین نے اس 6.12 فیصد توانائی کی قیمت بھی ادا کی جو استعمال ہی نہیں ہوئی، جبکہ مالی سال 2023-24 کے دوران بجلی کی مجموعی فروخت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔