خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے وادی تیرہ کے متاثرین سے ملاقات کے دوران امن کی موجودہ پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ "22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے بعد اب کیا ضمانت ہے کہ امن قائم ہو سکے گا؟”
انہوں نے کہا کہ ناکام پالیسیوں کی تبدیلی کا مطالبہ کرنے پر انہیں اور ان کی قوم کو دہشت گردوں کا حامی قرار دیا جاتا ہے، اور مشاورت کی بات کرنے پر اسمگلروں سے تعلق کا الزام لگایا جاتا ہے۔
انڈر 19 ورلڈکپ: انگلینڈ نے پاکستان کو 37 رنز سے شکست دے دی
سہیل آفریدی نے زور دے کر کہا کہ ان کی حکومت نے پہلے دن سے امن کے لیے آواز اٹھائی ہے، اور وہ آپریشن کی ناکام پالیسی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے متاثرین سے وعدہ کیا کہ وہ ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے تیرہ کے متاثرین کے مسائل کو فوری حل کرنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو ہنگامی اقدامات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے رجسٹریشن کا عمل تیز کرنے کے لیے نادرا کے مزید دفاتر قائم کرنے کی ہدایت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ "ہم بندوق کو قلم سے بدلیں گے۔ مستقل اور پائیدار امن کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے متفقہ پالیسی ہی واحد حل ہے۔”