Gas Leakage Web ad 1

اسلام آباد کچہری حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود نور ولی محسود نے کی تھی: وزیر اطلاعات

اسلام آباد کچہری حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود نور ولی محسود نے کی تھی: وزیر اطلاعات

0

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اسلام آباد کچہری کے باہر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود نے کی۔

Gas Leakage Web ad 2

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 11 نومبر کو اسلام آباد میں بڑا نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی جس کے شواہد افغانستان سے ملتے ہیں۔ ان کے مطابق سکیورٹی ایجنسیاں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پاک فوج مکمل طور پر الرٹ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حملے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اور اسلام آباد کے مضافات میں وہ جگہ بھی مل گئی جہاں خودکش حملہ آور نے پہلے ٹارگٹ کیا۔ آئی بی اور سی ٹی ڈی نے کارروائی کرتے ہوئے حملے کے فوراً بعد چار ملزمان ساجد اللہ عرف شینا، کامران خان، محمد ذالی اور شاہ منیر کو گرفتار کیا۔

ان کے مطابق ہینڈلر ساجد اللہ عرف شینا خودکش حملہ آور اور جیکٹ لے کر آیا تھا اور یہ گروہ اسلام آباد کے مضافات کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ حملے کے 48 گھنٹوں کے اندر ذمہ دار عناصر کو گرفتار کرلیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ آور افغانستان کا رہائشی تھا اور گرفتار دہشتگرد کسی نہ کسی طرح اس حملے میں شریک تھے۔ اس کارروائی کو دہشتگردی کے خاتمے کی جانب اہم کامیابی قرار دیا گیا۔

عطا تارڑ نے بتایا کہ دہشتگرد بڑا نقصان پہنچانا چاہتے تھے لیکن اپنے ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکے۔ تمام منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی اور ساجد اللہ عرف شینا اس میں مرکزی کردار تھا جو پہلے تحریک طالبان کا رکن رہ چکا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران ساجد اللہ عرف شینا کا اعترافی بیان بھی پیش کیا گیا۔

وزیر اعظم کی قوم سے خواتین پر تشدد کے خلاف متحد ہونے کی اپیل

انہوں نے بتایا کہ ساجد اللہ پاکستان واپس آکر خودکش حملہ آور عثمان شنواری سے ملا جو ننگر ہار افغانستان کا رہائشی تھا۔ اسے خودکش جیکٹ فراہم کی گئی جسے بعد میں جی الیون میں استعمال کیا گیا۔

وفاقی وزیر کے مطابق اگست 2025 میں ساجد اللہ اور محمد ذالی داد اللہ سے ملاقات کے لیے افغانستان گئے جہاں انہوں نے فتنہ الخوارج کے دہشتگرد عبداللہ جان عرف ابو حمزہ سے بھی ملاقات کی۔ بعد ازاں کابل میں داد اللہ نے انہیں نور ولی محسود کے احکامات پہنچائے جن کا تعلق راولپنڈی اور اسلام آباد میں خودکش حملوں سے تھا۔

انہوں نے کہا کہ ساجد اللہ اور داد اللہ ایک ایپ کے ذریعے مسلسل رابطے میں تھے اور دہشتگردوں کا ٹارگٹ راولپنڈی اور اسلام آباد تھا۔ ساجد اللہ نے افغانستان میں داد اللہ سے ملاقات کے بعد خودکش حملے کی منصوبہ بندی کی اور محمد ذالی و کامران خان کو شامل کیا۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ساجد اللہ نے 2015 میں تحریک طالبان افغانستان میں شمولیت اختیار کی اور مختلف تربیتی کیمپوں میں تربیت حاصل کی۔ 2023 میں اس نے داد اللہ سے ملاقات کی جس کے بعد منصوبہ بندی کا سلسلہ شروع ہوا۔

انہوں نے کہا کہ خوارج کے سرغنہ نور ولی محسود نے اپنے کمانڈر داد اللہ کے ذریعے مکمل کارروائی کی منصوبہ بندی کی جو اس وقت افغانستان میں موجود ہے اور اسی نے حملے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.