معروف گلوکار اور ریپر طلحہٰ انجم نے کنسرٹ کے دوران بھارتی پرچم اٹھانے کے واقعے پر معذرت کر لی۔ نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ان کے عمل سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ معافی چاہتے ہیں، تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ انہوں نے پوری پرفارمنس کے دوران بھارتی پرچم لہرایا۔
تجاوزات بن رہی تھی، قبضہ ہو رہا تھا اور ریلوے آنکھیں بند کرکے بیٹھا تھا، جسٹس حسن
طلحہٰ انجم کا کہنا تھا کہ نیپال میں ہونے والے کنسرٹ میں ہزاروں مداح موجود تھے جن میں سے بہت سے بھارت سے بھی تعلق رکھتے تھے، اور ان کے نزدیک تمام مداح برابر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پرفارمنس کے دوران مداحوں کی جانب سے متعدد چیزیں پھینکی جا رہی تھیں اور اسی دوران ایک بھارتی مداح نے انہیں پرچم تھما دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پرچم کو پہچانتے تھے لیکن مداح کا احترام کرتے ہوئے اسے کچھ دیر کے لیے تھام لیا اور پھر واپس رکھ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہاں صرف ایک نہیں بلکہ درجنوں بھارتی مداح موجود تھے اور وہ کسی مداح کا دیا ہوا پرچم پھینک نہیں سکتے تھے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ پوری طرح ہوش میں تھے، انہوں نے چند لمحوں کے لیے بھارتی پرچم کندھے پر رکھا پھر اسے لپیٹ کر اسٹیج پر رکھ دیا، تاہم سوشل میڈیا پر صرف چند سیکنڈ کی ویڈیو وائرل ہونے کی وجہ سے انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
طلحہٰ انجم نے بھارتی پرچم اٹھانے کے عمل سے پاکستانی شائقین کی دل آزاری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قوم سے معافی بھی مانگی۔