اسلام آباد میں وفاقی حکومت نے ٹیکس نیٹ کو سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت نان فائلرز کو اے ٹی ایم یا بینک ٹرانزیکشن پر زیادہ ادائیگی کرنا ہوگی۔ حکومت محصولات میں اضافہ اور ریونیو خسارے کو پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کی تیاری کر رہی ہے، جن سے عوام پر براہ راست مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔
جیب کتروں نے 70 سے زائد موبائل فونز چرالیے
ذرائع کے مطابق حکومت نان فائلرز کے لیے بینک سے نقد رقم نکالنے پر ٹیکس کی شرح 0.8 فیصد سے بڑھا کر 1.5 فیصد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس اقدام سے تقریباً 30 ارب روپے کی اضافی آمدن متوقع ہے، جبکہ لاکھوں نان فائلرز کو ہر ٹرانزیکشن پر زیادہ ادائیگی کرنا پڑے گی۔
رپورٹ کے مطابق یہ تجاویز مالی سال کی دوسری ششماہی میں 200 ارب روپے کے ریونیو خسارے کو پورا کرنے کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ ایف بی آر اب تک مقررہ ہدف سے پیچھے ہے، جہاں 3 ہزار 83 ارب روپے کے مقابلے میں 2 ہزار 885 ارب روپے ہی جمع ہو سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تجاویز آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والی حالیہ اسٹاف لیول بات چیت میں شیئر کی گئیں، تاہم حکومت نے منی بجٹ نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بجائے آئی ایم ایف کو ٹیکس میں اضافے کے متبادل منصوبے پیش کیے گئے ہیں تاکہ قرض پروگرام کے ریونیو اہداف پورے کیے جا سکیں۔