سپریم لیڈر خامنہ ای امریکی-اسرائیلی حملے میں شہید، ایران کی تصدیق

0

ایرانی حکومت نے باضابطہ طور پر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای  کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے


بعد جاں بحق ہوئے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے اعلان کیا کہ ملک بھر میں سوگ منایا جائے گا، جبکہ اعلیٰ حکام نے اسے قومی سانحہ قرار دیا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں ایک بڑا اور فیصلہ کن موڑ سمجھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ان کی ہلاکت کے بارے میں متضاد خبریں سامنے آ رہی تھیں، تاہم اب تہران کی جانب سے باضابطہ اعلان کے بعد صورتحال واضح ہو گئی ہے۔

مزید تفصیلات اور جانشینی کے حوالے سے لائحہ عمل کا اعلان جلد متوقع ہے۔

اسرائیلی وزیرِاعظم Benjamin Netanyahu** بنجمن نیتن یاہو** نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی۔اسرائیلی حملوں میں مارے گئے ہیں۔ ان کے مطابق تہران کے وسط میں واقع خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو ایک اچانک اور شدید حملے میں تباہ کر دیا گیا اور “کئی شواہد موجود ہیں کہ وہ اب زندہ نہیں رہے۔”

امریکی صدر Donald Trump ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا کہ خامنہ ای ایک بڑے امریکی اور اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے، اور کہا کہ بمباری کا سلسلہ ہفتے بھر جاری رہے گا۔ تاہم ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی قیادت “محفوظ اور سلامت” ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسیوں تسنیم اور مہر کے مطابق سپریم لیڈر خامنہ ای “میدان کی کمان مضبوطی سے سنبھالے ہوئے ہیں۔” یوں یہ بیانات رائٹرز اور اسرائیلی میڈیا کی ان رپورٹس کی تردید کرتے ہیں جن میں ان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے امریکی نشریاتی اداروں کو انٹرویو میں کہا کہ ایرانی قیادت کا “بڑا حصہ ختم ہو چکا ہے” اور حملے اس وقت تک جاری رہیں گے “جب تک ہم چاہیں گے۔”

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈیفرین نے دعویٰ کیا کہ ایران کے کئی اعلیٰ عہدیدار بھی حملوں میں مارے گئے، جن میں علی شمخانی، محمد پاکپور اور امیر نصیرزادہ شامل ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے ایران کے مختلف مقامات خصوصاً میزائل لانچر سائٹس کو نشانہ بنایا۔

ایرانی ریاستی میڈیا نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای بدستور قیادت کر رہے ہیں اور مکمل کنٹرول میں ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے کم از کم دو ارکان نے بھی واشنگٹن کے دعوؤں کی تردید کی ہے۔

ادھر ایران نے امریکی۔اسرائیلی کارروائی کے جواب میں اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز کی بوچھاڑ کر دی، جس کے باعث شمالی اسرائیل اور تل ابیب میں سائرن بج اٹھے اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ایرانی حکام کے مطابق “فتح خیبر” آپریشن کے تحت متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی اور خطرناک فوجی محاذ آرائی کی طرف دھکیل دیا ہے، جبکہ صورتحال بدستور غیر یقینی ہے

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.