Gas Leakage Web ad 1

27ویں آئینی ترمیم سے حکومت کی مقبولیت تیزی سے گری، ہاتھ مروڑ کر اکثریت حاصل کی گئی، فضل الرحمان

27ویں آئینی ترمیم سے حکومت کی مقبولیت تیزی سے گری، ہاتھ مروڑ کر اکثریت حاصل کی گئی، فضل الرحمان

0

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جے یو آئی کی مرکزی شوریٰ کے دو روزہ اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم سمیت حالیہ قانون سازی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور شوریٰ نے اس ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

اہم قوانین کی منظوری ! پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ

پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ پارلیمنٹ میں ان کے ارکان نے اس ترمیم کی بھرپور مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل پیش کی گئی 26ویں آئینی ترمیم طویل مشاورت کا نتیجہ تھی، اس دوران جے یو آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات ہوتے رہے اور تحریک انصاف بھی اس عمل کا حصہ تھی جبکہ ترمیم باہمی مشاورت کے مراحل سے گزری۔

مولانا فضل الرحمان کے مطابق ان کی جماعت نے ہمیشہ کوشش کی کہ آئین میں کوئی ایسی تبدیلی نہ ہو جو اس کے بنیادی عنوان یا روح کو متاثر کرے۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم کے سلسلے میں حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپوزیشن کو اعتماد میں لیتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایک بڑے فریق کو مکمل طور پر نظرانداز کیا، ارکان کو جبراً پارٹیوں سے الگ کیا اور جعلی اکثریت بنا کر ترمیم منظور کروائی، جو پارلیمانی اور جمہوری روایات کے خلاف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس عمل سے نہ حکومت کی عزت میں اضافہ ہوا اور نہ ہی وہ قوتیں کامیاب ہوئیں جو اس ترمیم کو لانا چاہتی تھیں۔ مولانا کے مطابق حکومت کی مقبولیت پہلے ہی تیزی سے کم ہو رہی ہے اور اس ترمیم کے لیے ارکان کے ہاتھ موڑ کر دو تہائی اکثریت کا تاثر دیا گیا، جو دراصل ایک مصنوعی اور دباؤ پر مبنی اکثریت تھی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.