وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کے دعوے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
بجٹ عملدرآمد میں تبدیلی کیلئے تجاویز آئندہ ماہ آئی ایم ایف کو پیش کرنے کا فیصلہ، وزارت خزانہ
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کا کسی صوبے کو قومی مالیاتی کمیشن یا آئینی حق سے محروم رکھنے کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی مالیاتی کمیشن کے تحت دیگر صوبوں کے وفاقی حکومت کے پاس بقایا جات بھی موجود ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے موقع پر وفاقی حکومت نے صوبوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ چونکہ مسلح افواج پورے ملک کا دفاع کرتی ہیں، اس لیے صوبوں کو بھی قومی مالیاتی کمیشن سے ان کے اخراجات میں حصہ ڈالنا چاہیے۔ تاہم جب اس پر اتفاق رائے نہیں ہوا تو وفاقی حکومت نے یہ تجویز واپس لے لی۔ اسی طرح ملکی قرضوں کی واپسی میں بھی صوبوں کا حصہ ڈالنے کی بات کی گئی تھی۔
انہوں نے نوفلائی لسٹ کے حوالے سے کہا کہ اگر سہیل آفریدی کا نام اس لسٹ میں شامل ہے تو یہ ان کے وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے کا معاملہ ہوگا، جس کی کوئی وجہ ضرور ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنا نام اس لسٹ سے ختم کروا سکتے ہیں، جیسا کہ اس سے قبل بھی کئی افراد کے نام نوفلائی اور ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے کلیئر ہو چکے ہیں۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ سہیل آفریدی کا خیبر پختونخوا کی عوام کے مسائل کے بارے میں بات کرنا اچھی بات ہے، کیونکہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی گفتگو کا عام طور پر عوام کی ترقی اور فلاح و بہبود سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
عمران خان سے ملاقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کسی قیدی سے ملاقات کوئی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تکنیکی معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اڈیالہ جیل میں آٹھ ہزار سے زائد قیدی ہیں اور ان کے خاندان کے افراد مخصوص قواعد و ضوابط کے تحت ہی ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔