بنگلادیش کی برطرف سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق مقدمے کا فیصلہ رواں ماہ کے آخر تک سنائے جانے کا امکان ہے۔
استغاثہ کے مطابق مقدمے کی کارروائی مکمل ہو چکی ہے اور عدالت 13 نومبر کو فیصلے کی تاریخ کا اعلان کرے گی۔ 78 سالہ شیخ حسینہ اس وقت بھارت میں موجود ہیں اور عدالت کی متعدد طلبیوں کے باوجود وطن واپس نہیں آئیں۔
شیخ حسینہ پر الزام ہے کہ انہوں نے بغاوت کو کچلنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کو سخت کارروائی کا حکم دیا، جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے مطابق جولائی اور اگست 2024 کے دوران تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی انتقال کرگئے
ان پر پانچ الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں قتل روکنے میں ناکامی بھی شامل ہے۔ استغاثہ نے ان الزامات پر سزائے موت کی سفارش کی ہے۔ سابق وزیراعظم نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مقدمے کو “عدالتی مذاق” قرار دیا ہے۔
شیخ حسینہ کے ساتھ مقدمے میں سابق وزیر داخلہ اسدالزماں خان کمال، جو مفرور ہیں، اور سابق پولیس چیف چوہدری عبداللہ المامون بھی شامل ہیں۔ المامون زیر حراست ہیں اور جرم کا اعتراف کر چکے ہیں۔
بین الاقوامی جرائم ٹریبونل کے پراسیکیوٹر غازی منور حسین تمیم کا کہنا ہے کہ عدالت کو فیصلہ سنانے میں ایک ہفتہ مزید لگ سکتا ہے، جبکہ 13 نومبر کی سماعت صرف فیصلے کی تاریخ طے کرنے کے لیے ہوگی۔
یاد رہے کہ اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ اس وقت ملک میں سیاسی عدم استحکام جاری ہے، جبکہ فروری 2026 میں متوقع عام انتخابات کے حوالے سے بھی حالات کشیدہ ہیں۔
شیخ حسینہ کی کالعدم جماعت عوامی لیگ نے جمعرات کو ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں کو ملک بھر میں الرٹ کر دیا گیا ہے۔