امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں تباہ ہونے والے ایف 15 طیارے کے ویپن آفیسر کو بحفاظت ریسکیو کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا بہادر کرنل اب مکمل طور پر محفوظ ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل ٹرتھ پر جاری اپنے پیغام میں قوم کو آگاہ کیا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران امریکی فوج نے تاریخ کے بڑے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز میں سے ایک مکمل کرتے ہوئے ایک بہادر کریو ممبر کو بازیاب کرایا، جو ایک کرنل بھی ہیں، اور اب وہ محفوظ مقام پر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ اہلکار ایران کے خطرناک پہاڑی علاقے میں دشمن کی حدود کے اندر موجود تھا، جہاں دشمن اس کا تعاقب کر رہے تھے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کے قریب پہنچ رہے تھے۔ اس کے باوجود وہ تنہا نہیں تھا کیونکہ اس کے کمانڈر ان چیف، سیکریٹری آف وار، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین اور اس کے ساتھی فوجی مسلسل اس کی نگرانی کر رہے تھے اور اس کی بحفاظت واپسی کے لیے حکمت عملی تیار کر رہے تھے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ان کے احکامات پر امریکی فوج نے درجنوں طیارے روانہ کیے جو جدید اور مہلک ہتھیاروں سے لیس تھے تاکہ اس کریو ممبر کو واپس لایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران کرنل زخمی بھی ہوئے تاہم ان کی حالت بہتر ہے اور وہ جلد صحتیاب ہو جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوجی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ دو امریکی پائلٹس کو علیحدہ علیحدہ دشمن کے گہرے علاقے سے بحفاظت نکالا گیا، اور امریکہ کبھی بھی اپنے کسی سپاہی کو اکیلا نہیں چھوڑے گا۔
صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دونوں آپریشنز بغیر کسی امریکی ہلاکت یا حتیٰ کہ زخمی ہونے کے مکمل ہوئے، جو اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ نے ایرانی فضاؤں پر مکمل فضائی برتری حاصل کر لی ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے امریکی ایف-15 طیارے کو گرانے کے لیے انفراریڈ ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، جبکہ امریکی طیاروں کے گرنے کے واقعات کے بعد ایرانی فضاؤں پر مکمل کنٹرول سے متعلق صدر اور وزیر جنگ کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔