ترجمان چینی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت کا عمل مستحکم انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کر رہا ہے اور حالات سازگار بنانے اور بات چیت کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں چین کی ثالثی کی کوششوں کی قدر کرتے ہیں، اور بات چیت کا عمل ہموار اور مستحکم انداز میں جاری ہے۔ تینوں فریقوں نے بات چیت کے لیے مخصوص طریقہ کار پر اتفاق رائے بھی کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا تھا کہ پاکستانی وفد نے ارمچی میں افغان حکام کے ساتھ بات چیت کی ہے، اور ارمچی میں ورکنگ لیول پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارمچی میں بات چیت میں حصہ لینا پاکستان کے موقف کا تسلسل ہے اور افغانستان کے معاملے پر چین کے کردار اور کاوشوں کو سراہا جاتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال نہ ہو، اور افغانستان کی جانب سے اس بارے میں اظہار تو ہے مگر عملی طور پر بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے ایسا ہی اظہار دوحا معاہدے میں بھی کیا تھا، مگر عملی طور پر یہ نظر نہیں آیا۔ پاکستان کو افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے کی تحریری ضمانتیں درکار ہیں۔